بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 16 از 67
حدیث نمبر: 24759 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے شروع، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 24760 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24760]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1211
الحكم: حديث صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24761 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرٍو ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
حدیث نمبر: 24762 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمَاتَ، فَدَخَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے وہ جہنمیوں والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اسی حال میں مر کر جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کر رہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے لہٰذا مرنے سے کچھ پہلے وہ اہل جنت والے اعمال کرنے لگتا ہے اور اس حال میں مر کر جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24762]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24763 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ , عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْرَدَ الْحَجَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24763]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1211
الحكم: حديث صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24764 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يَفْرِجُونَ عَنْهُ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ، فَرَهِقُوهُ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ، فَدَخَلَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، لَقَدْ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عرب کے دیہاتی لوگ بڑی کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا، مہاجرین کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے راستہ بنانے لگے اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ کے گھر کی چوکھٹ تک پہنچ پائے، وہ دیہاتی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر ان کے حوالے کی اور خود تیزی سے چوکھٹ کی طرف بڑھے اور گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا ان پر اللہ کی لعنت ہو، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! یہ لوگ تو ہلاک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر! ہرگز نہیں، میں نے اپنے رب سے یہ شرط ٹھہرا رکھی ہے " جس کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی " کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور ان چیزوں سے تنگ ہوتا ہوں جن سے عام لوگ تنگ ہوتے ہیں، اب اگر کسی مسلمان کے لئے میرے منہ سے کوئی جملہ نکل جائے تو اسے اس شخص کے حق میں کفارہ بنا دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24764]
حکم دارالسلام
قوله: إنما أنا بشر أضيق...، صحيح، وهذا إسناد فيه ابن أبى الزناد مختلف فيه
الحكم: قوله: إنما أنا بشر أضيق...، صحيح، وهذا إسناد فيه ابن أبى الزناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24765 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، امْرَأَةً امْرَأَةً، فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ، حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا، فَيَبِيتَ عِنْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے ایک ایک زوجہ کے پاس نہ جاتے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آتے اور مباشرت کے سوا ہمارے جسم کو چھو لیتے تھے، یہاں تک کہ اس زوجہ کے پاس پہنچ جاتے جس کی اس دن باری ہوتی اور اس کے یہاں رات گذارتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد ابن أبى الزناد
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد ابن أبى الزناد
حدیث نمبر: 24766 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24766]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره
الحكم: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24767 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24767]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن أبى الزناد فيه ضعف، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن أبى الزناد فيه ضعف، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24768 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ، وَدُونَ الْجُمَّةِ، وَايْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ، مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ، وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ، إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ، فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ، يَعْنِي: فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ، وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ، فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ، وَايْمُ اللَّهِ لَأَنْ كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ . وقَالَ الْهَاشِمِيُّ: بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا ضِجَاعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے، واللہ اے بھانجے! آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں، یعنی پانی اور کھجور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو الماری میں اتنا بھی کھانا نہ تھا جسے کوئی جگر رکھنے والا کھا سکے، صرف تھوڑے سے جو کے دانے تھے، لیکن میں انہیں ایک طویل عرصے تک کھاتی رہی تاہم وہ ختم نہ ہوئے، ایک دن میں نے انہیں ناپ لیا اور وہ ختم ہوگئے، کاش! میں نے انہیں ماپا نہ ہوتا اور واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24768]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 24769 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نُوقِشَ الُْحِساَبَ، لَمْ يُغْفَرْ لَهُ". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ قَوْلُهُ: يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8؟ قَالَ:" ذَاكَ الْعَرْضُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24769]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله ابن أبى زياد، خ: 6536، م: 2876
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله ابن أبى زياد، خ: 6536، م: 2876
حدیث نمبر: 24770 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ: مُوسَى: عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ. قَالَ: سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24770]
حکم دارالسلام
إسناده جيد محتمل للتحسين
الحكم: إسناده جيد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24771 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَتِهِ، فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24771]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن قرط
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن قرط
حدیث نمبر: 24772 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، نَافِعٌ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
حدیث نمبر: 24773 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، نَافِعٌ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَنَّ عَائِشَةَ تَصَدَّقَتْ بِشَيْءٍ، فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے بریرہ سے کہا تو وہ کچھ لے کر آئی، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24774 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، نَافِعٌ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، أَنْتَ الطَّبِيبُ وَأَنْتَ الشَّافِي. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24775 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ، فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24776 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا، قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي، وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5675، م: 2191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5675، م: 2191
حدیث نمبر: 24777 مسند احمد
الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا مَرِضَ أَوْ نَامَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً". قَالَتْ:" وَمَا رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ"، وَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْمَلُ عَمَلًا يُثْبِتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مری ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی دن نین کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24778 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُمْ، ثُمَّ يَعُودُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس آجاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24778]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير شريك، وهو سيئ الحفظ، ولكن تابعه سفيان كما فيي الرواية: 24755
الحكم: رجاله ثقات غير شريك، وهو سيئ الحفظ، ولكن تابعه سفيان كما فيي الرواية: 24755