الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا مَرِضَ أَوْ نَامَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً". قَالَتْ:" وَمَا رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ"، وَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْمَلُ عَمَلًا يُثْبِتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مری ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی دن نین کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746