مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ، أَبَا الْأَحْوَصِ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ"، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَة .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہوں میں اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25406]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 6054، م: 2591
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 6054، م: 2591