بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 47 از 67
حدیث نمبر: 25379 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَفَاضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ مَرَاقَّهُ، حَتَّى إِذَا أَنْقَى أَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الطَّهُورَ، وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اچھی طرح دھوتے، شرمگاہ دھوتے، پھر دیوار پر ہاتھ مل کر اسے دھوتے، پھر وضو فرماتے تھے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، سماع محمد بن جعفر من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع بعبد الوهاب وهو ممن سمع منه قبل الاختلاط
الحكم: إسناده صحيح، سماع محمد بن جعفر من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع بعبد الوهاب وهو ممن سمع منه قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 25380 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25380]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 25381 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25381]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأن محمد بن عمرو حسن الحديث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأن محمد بن عمرو حسن الحديث
حدیث نمبر: 25382 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، بُدَيْلٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25382]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
حدیث نمبر: 25383 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، النَّخَعِيِّ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ، فَنَفْتِلُ لَهَا قَلَائِدَهَا، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
حدیث نمبر: 25384 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ:" تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتایئے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25385 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، وَيَزِيدُ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، كَهْمَسٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ . وَيَزِيدُ ، قَالَ. وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: " لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ" قَالَ: قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ:" بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ" قَالَ: قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ؟ فَقَالَتْ:" الْمُفَصَّلَ" قَالَ: قُلْتُ: أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ:" مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ" . قَالَ يَزِيدُ: يَقْرِنُ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آتے، میں نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سی سورتیں نماز میں پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا مفصلات، میں نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہینہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو اور یہ معمول تا دم آخر چلتا رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25385]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 717
الحكم: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25386 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا، وَكَانَ مِنْهُ صُعُوبَةٌ، فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّهُ لَا يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہوئیں جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2594
الحكم: إسناده صحيح، م: 2594
حدیث نمبر: 25387 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَيُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، حَتَّى أَقُولَ: دَعْ لِي، دَعْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25388 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: قَالَتْ:" نَعَمْ، وَيُزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25389 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَتْ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، قَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25390 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ؟ قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل بیت کو دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25390]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5595، م: 1995
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25391 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ:" إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَانِدٌ، وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا" . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: غُسْلًا وَاحِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ایک دشمن رگ کا خون ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25391]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف
الحكم: حديث ضعيف
حدیث نمبر: 25392 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرٌ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهَا، فَقَالَ: " أَخِّرِيهِ عَنِّي"، قَالَتْ: فَأَخَّرْتُهُ، فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اسے دور کرو، چنانچہ میں نے اسے وہاں سے ہٹا لیا اور اس کے تکیے بنا لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، م: 2107
حدیث نمبر: 25393 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" . وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَخُيِّرَتْ" . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا. قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو، کیونکہ غلام کی وراثت اس کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2578، م: 1075
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2578، م: 1075
حدیث نمبر: 25394 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25395 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا؟ قَالَ: " كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاتے تھے اور ان کے گھر میں داخل ہوجاتے تھے، راوی نے پوچھا کہ ابراہیم نخعی ان کے یہاں کیسے چلے جاتے تھے؟ انہوں جواب ملا کہ وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے اور اسود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان عقد مواخات و مودت قائم تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25395]
حکم دارالسلام
أثر صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
الحكم: أثر صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
حدیث نمبر: 25396 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، أَقُولُ: يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25397 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح على خطأ فى اسم أحد رواته، وهم شعبة فى اسم خالد بن علقمة فسماه هنا مالك ابن عرفطة، خ: 5595، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح على خطأ فى اسم أحد رواته، وهم شعبة فى اسم خالد بن علقمة فسماه هنا مالك ابن عرفطة، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25398 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی انسان پر بیماری کی شدت کا اثر نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5646، م: 2570