مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا؟ قَالَ: " كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاتے تھے اور ان کے گھر میں داخل ہوجاتے تھے، راوی نے پوچھا کہ ابراہیم نخعی ان کے یہاں کیسے چلے جاتے تھے؟ انہوں جواب ملا کہ وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے اور اسود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان عقد مواخات و مودت قائم تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25395]
حکم دارالسلام
أثر صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع
الحكم: أثر صحيح، محمد بن جعفر سمع من سعيد بعد اختلاطه ولكن توبع