بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 58 از 67
حدیث نمبر: 25599 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي، فَأَوْتَرْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تھے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 512، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 512، م: 512
حدیث نمبر: 25600 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی کسی بیوی کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25601 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: " كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیض اور عمامہ نہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1272، م: 941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1272، م: 941
حدیث نمبر: 25602 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ أَوْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1539، م: 1189
حدیث نمبر: 25603 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا، قَالَ:" وَمَا شَأْنُهَا"، قُلْتُ: حَاضَتْ. قَالَ: " أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ"، قُلْتُ: بَلَى، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدُ، قَالَ:" فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ". فَنَفَرَ بِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25603]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى متنه
الحكم: حديث صحيح على قلب فى متنه
حدیث نمبر: 25604 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، أو حدثني، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا آخَرُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ فَقَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5261، م: 1433
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5261، م: 1433
حدیث نمبر: 25605 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْهُمْ، فَطَلَّقَهَا، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي هَذِهِ. فَقَالَ: " لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، أَوْ يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" . هِشَامٌ شَكَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بنو قریظہ کی ایک عورت آئی جسے اس کے پہلے شوہر نے طلاق دے دی، پھر اس نے کسی اور سے شادی کرلی اور اس نے بھی اسے طلاق دے دی، وہ عورت کہنے لگی کہ میرے دوسرے شوہر کے پاس تو اس کپڑے کے ایک کونے جیسی چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25606 مسند احمد
يَحْيَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ثُمَّ شَكَّ يَحْيَى فِي ثَلَاثٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں تین مرتبہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25607 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، فَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25608 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، أَغْتَرِفُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 25609 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَأَقُولُ: أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي" . كَذَا قَالَ أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 25610 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " لَوْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ، مَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ"، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرَةَ: وَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَت: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 849، م: 445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 849، م: 445
حدیث نمبر: 25611 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25611]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25612 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمُ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَرَاهُ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمَنِيَّ، فَأَحُكُّهُ" . وَقَالَ يَحْيَى: مَرَّةً فَأَفْرُكُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں پر مادہ منویہ کانشان دکھائی دیتا تو اسے کھرچ دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25612]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25613 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" ..
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه، خ: 1928، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25614 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا: يَعْنِي فِي فَرْكِ الْمَنِيِّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25614]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25615 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنّ لِي جَارَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: " أَقْرَبُهُمَا مِنْكِ بَابًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25615]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، 2595
الحكم: إسناده صحيح، 2595
حدیث نمبر: 25616 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، لِمِقْسَمٍ ، الثِّقَةِ ، عَائِشَةَ ، ومَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ : أُوتِرُ بِثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي، قَالَ: " لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ" . قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ، لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، وْمُجَاهِدٍ، فَقَالَا لِي: سَلْهُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، ومَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ میں نے مقسم سے پوچھا میں تین رکعتوں پر وتر بنا کر نماز کے لئے جاسکتا ہوں تاکہ نماز فوت نہ ہوجائے؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر تو صرف پانچ یا سات رکعتوں پر بنائے جاتے ہیں، میں نے یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مقسم سے اس کا حوالہ پوچھو چنانچہ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ دو ثقہ راویوں کے حوالے سے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد مجھ تک پہنچایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25616]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الثقةعنه مقسم الراوي
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الثقةعنه مقسم الراوي
حدیث نمبر: 25617 مسند احمد
يَحْيَى ، حُسَيْنٍ ، بُدَيْلٌ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا رَكَعَ، لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ: التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک سیدھے کھڑے نہ جاتے اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعتوں پر " التحیات " پڑھتے تھے اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھالے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 498
الحكم: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 25618 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا، فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ، فَارْفَعُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کو عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5658، م: 415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5658، م: 415