بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 10 از 67
حدیث نمبر: 24639 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24640 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، سُمَيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِ يَوْمِي، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ". قَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ،" فَرَضِيَ عَنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہوں، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا گیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو، آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرما دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24640]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لأن سمية مجهولة
الحكم: إسناده ضعيف، لأن سمية مجهولة
حدیث نمبر: 24641 مسند احمد
عَفَّانُ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، أَبُو خَلَفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا؟ فَقَالَ: أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا؟ فَقَالَتْ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ فَقَالَ: الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا سورة المؤمنون آية 60 أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ: أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، قَالَتْ: أَيَّتُهُمَا؟ قُلْتُ: الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ:" أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا، وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ" ، أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ، وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حُرِّف.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو خلف " جو بنو جمح کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو چشمہ زمزم کے پاس تھیں اور اس وقت پوری مسجد میں اس کے علاوہ کہیں اور سایہ نہ تھا، انہوں نے فرمایا ابوعاصم یعنی عبید بن عمیر کو خوش آمدید، تم ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے عرض کیا اس خوف سے کہ کہیں آپ اکتا نہ جائیں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، عبید نے عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کون سی آیت؟ عبید نے عرض کیا " کہ یہ آیت اس طرح ہے الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا یا اس طرح ہے الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قراءتوں میں سے کون سی قرأت پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرأت تو مجھے تمام دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الذین یاتون ما اتوا انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24641]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
حدیث نمبر: 24642 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي، وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24643 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟" قَالَ: مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیشاب کے لئے تشریف لے گئے، ان کے پیچھے حضرت عمر ایک پیالے میں پانی لے کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فراغت کے بعد پوچھا عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کے وضو کے لئے پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو ضرور ہی کروں کیونکہ اگر میں ایسا کرنے لگوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24643]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالله بن يحيي ضعيف، وقد تفرد به، وأم عبدالله بن أبى مليكة مجهولة
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالله بن يحيي ضعيف، وقد تفرد به، وأم عبدالله بن أبى مليكة مجهولة
حدیث نمبر: 24644 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ، وَلَا الْمَصَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1450
الحكم: إسناده صحيح، م: 1450
حدیث نمبر: 24645 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا بھانجے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے یہاں کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعتیں ترک نہیں فرمائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 591، م:835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 591، م:835
حدیث نمبر: 24646 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ، فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ قَدْ حِضْنَ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ، فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ، فَقَالَ: " شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کرکے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24646]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24647 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَرَضِهِ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَإِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ:" مُرُوهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ"، قَالَ: فَرَدَّتْ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ , يَقُولُ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: " دَعِينِي، فَإِنَّكُنَّ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، لِيَؤُمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
حدیث نمبر: 24648 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ، يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ لِيَصُبَّ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ حَتَّى يُنَقِّيَهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَهُ غَسْلًا حَسَنًا، ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، فَإِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے اور اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھولیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24648]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24649 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، خَمْسُ نِسْوَةٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَمْسُ نِسْوَةٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24649]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24650 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ لَهُ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَصْنَعُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَصْنَعْ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَأَيْتُهُ يَدْعُو، فَقَالَ: " شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ". فَقَالَ: أَتَانِي رَجُلَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ الْآخَرُ: مَطْبُوبٌ. قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ. قَالَ: فِي مَاذَا؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُبِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ. قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي ذِي أَرْوَانَ". قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ عَائِشَةَ، قَالَ:" وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرَجْتَهُ لِلنَّاسِ؟ فَقَالَ: أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ شَفَانِي، وَخَشِيتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بنو زریق کے ایک یہودی " جس کا نام لبید بن اعصم تھا " نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جادو کردیا تھا، جس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کافی دیر تک دعائیں کیں، پھر فرمایا عائشہ! میں نے اللہ سے جو کچھ پوچھا تھا، اس نے مجھے اس کے متعلق بتادیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے کی جانب بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی جانب، پھر سرہانے کی جانب بیٹھنے والے نے پائنتی کی جانب بیٹھنے والے سے یا علی العکس کہا کہ اس آدمی کی کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے؟ اس نے پو چھا کہ یہ جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے بتایا لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا کہ کن چیزوں میں جادو کیا گیا ہے؟ دوسرے نے بتایا ایک کنگھی میں اور جو بال اس سے گرتے ہیں اور نر کھجور کے خوشہ غلاف میں، اس نے پوچھا کہ اس وقت یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے بتیا کہ " اروان " نامی کنوئیں میں۔ چنانچہ یہ خواب دیکھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر پہنچے اور واپس آکر حضرت عائشہ کو بتایا کہ اے عائشہ! اس کنوئیں کا پانی تو یوں لگ رہا تھا جیسے مہندی کا رنگ ہوتا ہے اور اس کے قریب جو درخت تھے وہ شیطان کے سر معلوم ہو رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اسے آگ کیوں نہیں لگا دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، اللہ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اب میں لوگوں میں شر اور فتنہ پھیلانے کو اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ان سب چیزوں کو دفن کردیا گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5766، م: 2189
حدیث نمبر: 24651 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا آخَرُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمَسَّهَا، قَالَ: " لَا يَنْكِحُهَا الْأَوَّلُ حَتَّى تَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ، وَيَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24651]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد تفرد عن أم محمد، وهى أيضا مجهولة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد تفرد عن أم محمد، وهى أيضا مجهولة
حدیث نمبر: 24652 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ، فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق پوچھا " جسے اہل یمن پیتے تھے " تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5586، م: 2001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5586، م: 2001
حدیث نمبر: 24653 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، الشَّعْبِيَّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ"، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5264، م: 1477
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5264، م: 1477
حدیث نمبر: 24654 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْءَبِ، سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَنَا: " أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْءَبِ؟" فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟! عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کون ساچشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمرا ہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کر وادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہوگی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24655 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ؟ فَقَالَتْ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آرہی ہے، انہوں نے فرمایا شرماؤ نہیں، پوچھ لو، میں تمہاری ماں ہوں، چنانچہ انہوں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی پر " چھا جائے " لیکن انزال نہ ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24655]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف
حدیث نمبر: 24656 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ يَعْنِي الْقَرِيعِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَمَّاسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ يَعْنِي الْقَرِيعِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَمَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، تَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نقیر، دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24656]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24657 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدًا ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ كُلُّهُمْ يَشْفَعُ لَهُ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 947
الحكم: إسناده صحيح، م: 947
حدیث نمبر: 24658 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ ، الْحَسَنُ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ أَبِي: حُصَيْنٌ هَذَا، صَالِحُ الْحَدِيثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَذَكَرَتْ الْوُضُوءَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَأْمُرُ بِطَهُورِهِ وَسِوَاكِهِ، فَلَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُبِضَ" . قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ، فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ؟ قَالَتْ: فَلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38 فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ: فَخَرَجَ، وَقَدْ فَقُهَ، فَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مُكْرَانَ، فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سعد بن ہشام ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے اور نویں رکعت پر وتر بناتے تھے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت عائشہ نے وضو کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے بیدار ہوتے تو وضو کا پانی اور مسواک لانے کا حکم دیتے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم مبارک بھر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چھ رکعتیں پڑھتے اور ساتویں پر وتر بنالیتے تھے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھ لیتے اور وصال تک اسی طرح کرتے رہے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے گوشہ نشینی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی اس میں کیا رائے ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا " ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کی بیویاں اور اولاد بنائی تھی " لہٰذا تم گوشہ نشین نہ ہونا، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کر بصرہ پہنچے اور کچھ ہی عرصے بعد " مکران " کی طرف نکل پڑے اور وہیں بہترین اعمال کے ساتھ شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح