عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَرَضِهِ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَإِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ:" مُرُوهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ"، قَالَ: فَرَدَّتْ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ , يَقُولُ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: " دَعِينِي، فَإِنَّكُنَّ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، لِيَؤُمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 679، م: 418