بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 35 از 67
حدیث نمبر: 25139 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25140 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ، فَطَلَبْتُهُ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں سمجھی شاید اپنی کسی باندی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ پروردگار! میرے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25141 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَين تَرْشَحُ فِيهِمَا، فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ، وَإِنَّ فُلَانًا قَدْ جَاءَهُ بَزٌّ، فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فبعثَ إليهِ يبيعُهُ ثوبَيْن إلي المَيْسرة. قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبَيَّ أَي لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ شُعْبَةُ: أُرَاهُ قَالَ:" قَدْ كَذَبَ، لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، أَوْ قَالَ:" أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عمان کے دو کپڑے تھے جو بہت موٹے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں، جب یہ گیلے ہوجاتے ہیں تو اور بھی وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں آدمی کے پاس کچھ کپڑے آئے ہیں، کسی آدمی کو اس کے پاس بھیج دیجئے کہ وہ آپ کو دو کپڑے فروخت کردے اور آپ کشادگی ہونے پر اسے ادائیگی کردیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج دیا، وہ کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا ارادہ ہے، یہ چاہتے ہیں کہ میرے کپڑے لیجائیں اور مجھے میرے دراہم نہ دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اس نے غلط کہا، یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، بات میں سب سے زیادہ سچا اور امانت کو سب سے بڑھ کر ادا کرنے والا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25142 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبٍّ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، سَائِبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبٍّ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ"، وَقَالَ: " إِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ الْوَلَدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25142]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25143 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أبيه ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عن أبيه . وقال روح: قال: أخبرني أشعت بن سليم، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَقُلْتُ: فَأَيُّ حِينٍ كَانَ يَقُومُ؟ قَالَتْ: " إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے۔ میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
حدیث نمبر: 25144 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ" ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَثُ أَخِيرًا كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ وَطُهُورِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلا وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
الحكم: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25145 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، صَفِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تحَدَّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيْضِ؟ قَالَ: " تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا"، قَالَتْ أَسْمَاءُ وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ: تَبْتَغِي أَثَرَ الدَّمِ. وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ:" تَأْخُذِينَ مَاءَِ فَتَطَهَّرِينَ، فَتُحْسِنِينَ الطُّهُورَ، أَوْ أَبْلِغِي الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ" ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25145]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 332
الحكم: حديث صحيح، م: 332
حدیث نمبر: 25146 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ: " ٍٍسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25146]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 487
الحكم: حديث صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25147 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبَاهُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1182
حدیث نمبر: 25148 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ، غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُا، وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 25149 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍٍ، فَصَلَّى جَالِسًا، وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 688، م: 412
الحكم: إسناده صحيح، خ: 688، م: 412
حدیث نمبر: 25150 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، أَبِي نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25151 مسند احمد
عَائِشَةَ
وَقَالَ: وَقَالَ: عَنْ عَائِشَةَ :" كَانَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں، اسی لئے وہ اس کے درمیان کی چیزوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إسناد سابقه
الحكم: إسناده صحيح إسناد سابقه
حدیث نمبر: 25152 مسند احمد
عَائِشَةُ
قَالَ: قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بعُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نیک لوگوں کا تذکرہ کیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی تذکرہ کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25152]
حکم دارالسلام
أثر إسناده صحيح إسناد سابقه
الحكم: أثر إسناده صحيح إسناد سابقه
حدیث نمبر: 25153 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7549
حدیث نمبر: 25154 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخِيهِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " رَأَيْتِيهِ؟ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25154]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 25155 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، فُلَيْتٍ ، جَسْرَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فُلَيْتٍ ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ، أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ، فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَتُهُ؟ فَقَالَ: " إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ، وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا۔ میں اپنے اوپر اور قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25155]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25156 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ بُصَاقًا أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھوک دیکھا تو اسے مٹی میں مل دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
حدیث نمبر: 25157 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ رَخَّصَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان
حدیث نمبر: 25158 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ، قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ، فَقَالَ: جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ. قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ:" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخَرَجَ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور جمرے کے پاس پہنچ کر ان سے جا ملا اور وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اسے کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1817
الحكم: إسناده صحيح، م: 1817