بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 14 از 67
حدیث نمبر: 24719 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرُ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكُنْتِ تَغْتَسِلِينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24719]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 250، م: 321
الحكم: حديث صحيح، خ: 250، م: 321
حدیث نمبر: 24720 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرُ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ، فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي، إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ، يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ" فَقُلْتُ: بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ، فَقَرَأَ: الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ سورة النور آية 4 - 26 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہرکیف! نزول وحی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا عائشہ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24720]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون ذكر الآيات، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة، فقد جاء فى الرواية الصحيحة: 25623، فأنزل الله عزو جل: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ..﴾
الحكم: حديث صحيح دون ذكر الآيات، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة، فقد جاء فى الرواية الصحيحة: 25623، فأنزل الله عزو جل: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ..﴾
حدیث نمبر: 24721 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا أُنْزِلَ الْخِيَارُ، قَالَ لِي: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا لَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: فَقَرَأَ آيَةَ الْخِيَارِ، فَقُلْتُ: بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرِحَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24721]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24722 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمر بن أبى سلمة فهو ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمر بن أبى سلمة فهو ضعيف
حدیث نمبر: 24723 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ ، عَاصِمٌ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَ: أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَأُبَادِرُهُ وَأَقُولُ دَعْ لِي، دَعْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 24724 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ ، أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ ، قَالَ الْخُزَاعِيُّ: عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ، وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ الْمِسْوَرُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا , فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا؟ فَقُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ" سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24724]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
حدیث نمبر: 24725 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چوتھائی دینا ریا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔ ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24725]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين أبى بكر بن حزم وعائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين أبى بكر بن حزم وعائشة
حدیث نمبر: 24726 مسند احمد
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّه، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24727 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مُهِلًّا بِالْحَجِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24728 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ الْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ". قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَلَمَّا اشْتَكَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَأَمْسَحُهُ بِكَفِّهِ رَجَاءَ بَرَكَةِ يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 24729 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْرَدَ الْحَجَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف حج کا حرام باندھا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24730 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٌ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24730]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24731 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے تو محض انسانی ضرورت کی وجہ سے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 24732 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ؟ قَالَتْ:" كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِ رَمَضَانَ وَاحِدَةً، كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: " إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَقَلْبِي لَا يَنَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے جن کی عمدگی اور طوالت کا تم کچھ نہ پوچھو، اس کے بعد دوبارہ چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی عمدگی اور طوالت کا بھی کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24732]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3569، م: 738
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3569، م: 738
حدیث نمبر: 24733 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ، قَالَتْ: وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، قَالَتْ: فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ، قَالَتْ: ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا؟ فَقَالَ:" مَا فَعَلَتْ السِّتَّةُ؟ قَالَ: أَوْ السَّبْعَةُ؟" قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ، فَقَالَ: " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کاش! تم دونوں نے اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہوتا جس دن وہ بیمار ہوئے تھے، میرے پاس اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھ یا سات دینار پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں تقسیم کردوں، لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے فرصت نہ مل سکی، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرست ہوگئے اور مجھ سے ان کے متعلق پوچھا کہ ان چھ (یاسات) دیناروں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا واللہ اب تک نہیں ہوسکا، آپ کی بیماری نے مجھے مصروف کردیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں منگوایا اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمانے لگے اللہ کے نبی کا کیا گمان ہوگا، اگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24733]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة ، تفرد به موسي بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، تفرد به موسي بن جبير
حدیث نمبر: 24734 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي، فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا، دَلَّهُمْ عَلَى بَابِ الرِّفْقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی رہنمائی کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24735 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ ، شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفْسِ، شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھا نے میں ہر سحر یا زہر سے شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2048
الحكم: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24736 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ؟ قَالَ: " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا میں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24736]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله:لا تطعموهم مما لا تأكلون، وهذا إسناد اختلف فيه على حماد، وذكر الأسود بين إبراهيم وعائشة غير صحيح
الحكم: حديث صحيح دون قوله:لا تطعموهم مما لا تأكلون، وهذا إسناد اختلف فيه على حماد، وذكر الأسود بين إبراهيم وعائشة غير صحيح
حدیث نمبر: 24737 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْعَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ، أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ، أَوَّلَ الْبُكْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مقام عالیہ کی عجوہ کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2048
الحكم: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 24738 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ , يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ، مَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ". قُلْتُ: وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ:" جَمَعَهُمْ الطَّرِيقُ، مِنْهُمْ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِيلِ، وَالْمَجْبُورُ، يَهْلِكُونَ مَهْلِكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو رہے تھے، سوتے سوتے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسنے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ پر حملے کا ارادہ کریں گے، اس ایک آدمی کی وجہ سے جو حرم شریف میں پناہ گزین ہوگا، جب وہ مقام بیداء تک پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے اور ان سب کے اٹھنے کی جگہ مختلف ہوگی کیونکہ اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا، میں نے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کے اٹھنے کی جگہیں مختلف ہوں گی اور اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل اس لشکر میں کئی لوگ صرف دیکھنے کے لئے کئی مسافر اور کئی زبردستی شامل کئے گئے ہوں گے، یہ سب ایک ہی جگہ پر ہلاک ہوجائیں گے لیکن اپنی نیتوں کے اعتبار سے مختلف جگہوں سے اٹھائے جائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24738]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2118
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2118