بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24733
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24733
حدیث نمبر: 24733 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو سَلَمَةَ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ، قَالَتْ: وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، قَالَتْ: فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ، قَالَتْ: ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا؟ فَقَالَ:" مَا فَعَلَتْ السِّتَّةُ؟ قَالَ: أَوْ السَّبْعَةُ؟" قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ، فَقَالَ: " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ایک دن میں اور عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کاش! تم دونوں نے اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہوتا جس دن وہ بیمار ہوئے تھے، میرے پاس اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھ یا سات دینار پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں تقسیم کردوں، لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے فرصت نہ مل سکی، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرست ہوگئے اور مجھ سے ان کے متعلق پوچھا کہ ان چھ (یاسات) دیناروں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا واللہ اب تک نہیں ہوسکا، آپ کی بیماری نے مجھے مصروف کردیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں منگوایا اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمانے لگے اللہ کے نبی کا کیا گمان ہوگا، اگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24733]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة ، تفرد به موسي بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، تفرد به موسي بن جبير
← پچھلی حدیث (24732) باب پر واپس اگلی حدیث (24734) →