بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 29 از 67
حدیث نمبر: 25019 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآِجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی ہے اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خوہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25020 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25021 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَنْ تَأْتَزِرَ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 306، م: 292
الحكم: إسناده صحيح، خ: 306، م: 292
حدیث نمبر: 25022 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ. قَالَ: " وَأَنَا صَائِمٌ". قَالَتْ: فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25023 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، دَوُادُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ، وَالسَّمَوَاتُ، وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ، أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" عَلَى الصِّرَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تبدل الارض غیر الارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25023]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 25024 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا يَقُولُونَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عوت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، م: 512
حدیث نمبر: 25025 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٌ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2236
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2236
حدیث نمبر: 25026 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " مَا أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
حدیث نمبر: 25027 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، ومَسْرُوقًا ، عائشة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ , ومَسْرُوقًا ، يقولان: نشهد على عائشة أنها قَالَتْ:" مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي يَوْمٍ، إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 593، م: 835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 593، م: 835
حدیث نمبر: 25028 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّها قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثَ، يَوْمٌ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عِبَادَ اللَّهِ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ! عِبَادَ اللَّهِ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ! عِبَادَ اللَّهِ، أَمَزْمُورُ الشَّيْطَانِ! قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ الْيَوْمَ عِيدُنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجاری رہی تھیں اور جنگ بعاث کا ذکر کر رہی تھیں جس میں اوس و خزرج کے بڑے بڑے رؤساء مارے گئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو۔ کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 952، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 952، م: 892
حدیث نمبر: 25029 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ". قَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ". قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ. قَالَتْ: فَقُلْتُ: بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَغَضَبُ اللَّهِ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ بِهِ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" مَهْ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا، وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ: آمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک یہودی آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے آکر " السام علیک " کہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف " وعلیک " کہہ دیا میں نے کچھ بولنا چاہا لیکن رک گئی، تین مرتبہ وہ اسی طرح آیا اور یہی کہتا رہا، آخر کار میں نے کہہ دیا کہ اے بندروں اور خنزیروں کے بھائی! تم پر ہی موت اور اللہ کا غضب نازل ہو، کیا تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس انداز میں آداب کرتے ہو، جس میں اللہ نے انہیں مخاطب نہیں کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا رک جاؤ، اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کو پسند نہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی، ہم نے انہیں اس کا جواب دے دیا، اب ہمیں تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی البتہ ان کے ساتھ قیامت تک لے لئے یہ چیز لازم ہوجائے گی، یہ لوگ ہماری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں جس کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے اور یہ لوگ اس سے گمراہ رہے، اسی طرح یہ لوگ ہم سے امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25029]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25030 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ عَلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25030]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، على بن عاصم ضعيف ولكن توبع ، خ: 297
الحكم: حديث صحيح، على بن عاصم ضعيف ولكن توبع ، خ: 297
حدیث نمبر: 25031 مسند احمد
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا، فَقُلْتُ: لَهَا إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ صَبَبْتُ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتَقْتُكِ. فَاسْتَأْمَرَتْ مَوَالِيَهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلَاءَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا اگر تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں تو میں ایک ہی مرتبہ تمہاری ساری قیمت ادا کرکے تمہیں آزاد کردیتی ہوں، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25031]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 25032 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أُمِّ بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَسَمَ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي ذِي الْحَاجَةِ مِنَ النَّاسِ، وَفِي أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ الْمِسْوَرُ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا؟ قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَحِنُّ عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ" . سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام بکر بنت مسور کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کردی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حصہ مسور کہتے ہیں کہ میں لے کر گیا، انہوں نے پوچھا یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر مہربانی کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو صابرین ہیں، اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل سے سیراب کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25032]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف
حدیث نمبر: 25033 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أُمُّ بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يُحْنِي عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ".
حکم دارالسلام
حديث حسن وهو مكرر سابقا
الحكم: حديث حسن وهو مكرر سابقا
حدیث نمبر: 25034 مسند احمد
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) کھرچ دیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25034]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 288
الحكم: حديث صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25035 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 25036 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات سوتے تو خراٹے لینے لگتے، پھر بیدار ہو کر نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھنے لگتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25036]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25037 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25037]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 25038 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَلَا عُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو ظہر کی نماز میں جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25038]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف لأجل حكيم بن جبير