بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 39 از 67
حدیث نمبر: 25219 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اہل خانہ میں سے کوئی فوت ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جبس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے اثرات کو دور کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5417، م: 2216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5417، م: 2216
حدیث نمبر: 25220 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْرَائِيلُ ، يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ:" غُفْرَانَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو یوں کہتے " غُفْرَانَكَ۔ " اے اللہ! میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25220]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25221 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! جس طرح تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے، سیرت بھی اچھی کردے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25221]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25222 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِإِزَائِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25222]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25223 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، يَزِيدَ بْنِ يَعْفُرَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَعْفُرَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ دَخَلَ الْمَنْزِلَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ أَطْوَلَ مِنْهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَا يَفْصِلُ فِيهِنَّ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، يَرْكَعُ وَهُوَ جَالِسٌ، وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر گھر میں تشریف لے آتے تھے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، اس کے بعد اس کی نسبت لمبی دو رکعتیں مزید پڑھتے، پھر تین وتر پڑھتے اور ان میں وقفہ نہ کرتے۔ پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ جس میں بیٹھ کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھے بیٹھے ہی سجدے میں چلے جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25223]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف لأجل يزيد، والحسن مدلس
الحكم: إسناده فيه ضعف لأجل يزيد، والحسن مدلس
حدیث نمبر: 25224 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ثَلَاثًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى قُبِضَ، وَمَا رُفِعَ مِنْ مَائِدَتِهِ كِسْرَةٌ قَطُّ حَتَّى قُبِضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ان کے دستر خوان سے کبھی روٹی کا ٹکڑا نہیں اٹھایا گیا حتیٰ کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25224]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وما رفع من مائدته..... وهذا اسناد ضعيف لاجل محمد بن طلحة
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وما رفع من مائدته..... وهذا اسناد ضعيف لاجل محمد بن طلحة
حدیث نمبر: 25225 مسند احمد
قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتَلَفْتُ فِيهِ مَنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے! پوشیدہ ظاہر چیزوں کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کرسکتا ہے، ان اختلافی معاملات میں مجھے اپنے حکم سے صحیح راستے پر چلا، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے، اے اللہ! میں شیطان مردود کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ تم بھی اللہ سے یہ پناہ مانگا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! شیطان کے ہمز نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ " ہمز " سے مراد موت ہے جو بنی آدم کو آتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 770، عكرمة بن عمار ضعيف الرواية عن يحيى ولكن انتقى له مسلم هذا الحديث
الحكم: إسناده صحيح، م: 770، عكرمة بن عمار ضعيف الرواية عن يحيى ولكن انتقى له مسلم هذا الحديث
حدیث نمبر: 25226 مسند احمد
يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ
قَالَ قَالَ يَحْيَى : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ" ..
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل عكرمة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل عكرمة
حدیث نمبر: 25227 مسند احمد
قَالَ: قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هَمْزُهُ وَنَفْخُهُ وَنَفْثُهُ؟ قَالَ: " أَمَّا هَمْزُهُ، فَهَذِهِ الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَالْكِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ" .
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 25228 مسند احمد
أَبُو نُوحٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَبِي يُونُسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ". قَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكَ، أَنْتَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا واللہ مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1110
الحكم: إسناده صحيح، م: 1110
حدیث نمبر: 25229 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَلِلْأَمَةِ" ، وَقَالَتْ: كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25230 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25230]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل جابر، خ: 1927، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل جابر، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25231 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: قَدْ كَانَ يَتَمَثَّلُ مِنْ شِعْرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ: " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25231]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه و آله وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
حدیث نمبر: 25232 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، أُمِّي ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، أَخْبَرَتْنِي أُمِّي ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي مِنَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25232]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم المبارك بن فضالة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم المبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 25233 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " الْقَرْنُ الَّذِينَ أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ جس میں میں ہوں، پھر دوسرا اور پھر تیسرا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25233]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2536
الحكم: حديث صحيح، م: 2536
حدیث نمبر: 25234 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَبْغُضَ أُسَامَةَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ، فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص کے لئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا مناسب نہیں ہے جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو، اسے چاہیے کہ اسامہ سے محبت کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25234]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25235 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ ہم تو جنبی ہوتے ہیں لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25236 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجائیں اور اس کے پاس گناہوں کا کفارہ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25236]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل ليث وهو ابن أبى سليم
الحكم: إسناده ضعيف لأجل ليث وهو ابن أبى سليم
حدیث نمبر: 25237 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 25238 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنَّا مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى الْحُجْرَةِ، وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ أَوْ سِوَاكَهَا وَهِيَ تَسْتَنُّ. قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَسْتَمِعِينَ، مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ. قَالَتْ:" يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ أَوْ عُمْرَةً إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ مسواک کر رہی تھی اور مجھے اس کی آواز آرہی تھی، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبد الرحمٰن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1777، م: 1255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1777، م: 1255