بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 34 از 67
حدیث نمبر: 25119 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ سَخْبَرَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً، أَيْسَرُهُنَّ مَؤْنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25119]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل ابن سخبرة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل ابن سخبرة
حدیث نمبر: 25120 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاؤُوا اسْتَغْفَرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25120]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25121 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، شَيْبَةُ الْخُضَرِيُّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضَرِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ، وَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ: الصَّلَاةُ، وَالصَّوْمُ، وَالزَّكَاةُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ: لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ، يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْفَظُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھالو تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرمایا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25121]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
حدیث نمبر: 25122 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، سُمَيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَقَالَتْ لِي: هَلْ لَكِ إِلَى أَنْ تُرْضِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَأَجْعَلُ لَكِ يَوْمِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ اخْتَمَرَتْ بِهِ قَالَ عَفَّانُ: لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي يَوْمِهَا، فَجَلَسَتْ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: " إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ فَلَيْسَ هَذَا يَوْمَكِ"، فَقُلْتُ: فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ خَبَرِي . قَالَ عَفَّانُ فَرَضِيَ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرمادے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے راضی ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سمية
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سمية
حدیث نمبر: 25123 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ الله" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25124 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ ، أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِاللَّبَنِ، قَالَ: " كَمْ فِي الْبَيْتِ بَرَكَةً أَوْ بَرَكَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دودھ پیش کیا جاتا تو فرماتے گھر میں کتنی برکتیں ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25124]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم سالم الرأسبية
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم سالم الرأسبية
حدیث نمبر: 25125 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25125]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4034، م: 1758
الحكم: حديث صحيح، خ: 4034، م: 1758
حدیث نمبر: 25126 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ:" صَلِّ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَكَ أَهْلَ الْيَمَنِ عَنْ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نماز عصر کے بعد قضاء نماز کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا پڑھ سکتے ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہاری قوم یعنی اہل یمن کو طلوع آفتاب کے وقت نوافل پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25127 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے راوی نے پوچھا کہ مہینہ کے کس حصے میں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ مہینے کے کس حصے میں رکھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1160
الحكم: إسناده صحيح، م: 1160
حدیث نمبر: 25128 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى فِي مَسَاكِنَ لَهُ بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ لِإِنْسَانٍ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ: اجْمَعْ ثَلَاثَةً فِي مَكَانِ وَاحِدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَأَمْرُهُ رَدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25128]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، م: 1718
الحكم: إستاده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 25129 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ قَوْمًا. وَقَالَ الْخَفَّافُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25129]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 436، م: 531
الحكم: حديث صحيح، خ: 436، م: 531
حدیث نمبر: 25130 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مُضْطَجِعَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سعيد هو ابن أبى عروبة مدلس ومختلط ولكن توبع كما فى الرواية: 24642
الحكم: حديث صحيح، سعيد هو ابن أبى عروبة مدلس ومختلط ولكن توبع كما فى الرواية: 24642
حدیث نمبر: 25131 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ، وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْك عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ، قَالَ:" وَرَأَيْتِيهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ . قَالَ سُفْيَانُ: الدَّخِيلُ: الضَّيْفُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جواب دیا " وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ برکاتہ " اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25131]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل مجالد
الحكم: إسناده ضعيف لأجل مجالد
حدیث نمبر: 25132 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" قَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنَّ بَعْضَ مِرْطِي عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن أبى كثير
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن أبى كثير
حدیث نمبر: 25133 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الدِّيْلِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ ، دَوُادَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الدِّيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ دَوُادَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السِّوَاكُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" . " وَفِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور کلونجی میں " سام " کے علاوہ ہر مرض کی شفاء موجود ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ! " سام " سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا موت۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25133]
حکم دارالسلام
هو حديثان: "السواك..... للرب" صحيح بطرقه، و فى الحبة السوداء.... فصحيح ايضا دون قوله: "يا رسول الله وما السام؟ فضعيف، وهذا اسناد ضعيف لاجل ابراهيم
الحكم: هو حديثان: "السواك..... للرب" صحيح بطرقه، و فى الحبة السوداء.... فصحيح ايضا دون قوله: "يا رسول الله وما السام؟ فضعيف، وهذا اسناد ضعيف لاجل ابراهيم
حدیث نمبر: 25134 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُغِيرَةُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ: " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی خبر کا انتظار ہوتا اور اس میں تاخیر ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس موقع پر طرفہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ " تیرے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تو نے زادراہ نہ دیا ہوگا۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25134]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 25135 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگاتے اور سو جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25135]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: "ولا يمس ماء" ، خ: 1146، م: 739
الحكم: حديث صحيح دون قوله: "ولا يمس ماء" ، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 25136 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ ، لَمِيسَ ، عَائِشَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ لَمِيسَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ . قالت: قلت لها: المرأة تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا؟ فَقَالَتْ: " أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا"، قَالَتْ: وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّهْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ، وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ" . قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ، فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ أو شدَّ الإزار وشَمَّر" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
لمیس کہتی ہیں کی ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک عورت اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے، انہوں نے فرمایا اپنے آپ سے اس چیز کو دور کرو جس کو اللہ تعالیٰ نظر کرم نہیں فرماتا، پھر ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خطاب کر کے " اماں جان " کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، بلکہ میں تو تمہاری بہن ہوں اور فرمایا کہ ماہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند اور نماز دونوں کام کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوب محنت کرتے اور تہبند کس لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25136]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25137 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ" أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَهَا:" قُولِي: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ، أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے کا تھا لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کامل چیزوں کو اختیار کرو، جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا مطلب پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو، اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتاہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کے رقیب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25138 مسند احمد
عبد الصمد ، شُعْبَةُ ، جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حدَّثناه عبد الصمد ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" عَلَيْكِ بِالْجَوَامِعِ الْكَوَامِلِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه