بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25137
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25137
حدیث نمبر: 25137 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ" أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَهَا:" قُولِي: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ، أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کا ارادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے کا تھا لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کامل چیزوں کو اختیار کرو، جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا مطلب پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو، اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتاہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کے رقیب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (25136) باب پر واپس اگلی حدیث (25138) →