بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 53 از 67
حدیث نمبر: 25499 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُهُمَا"، قَالَتْ: فَأَظُنُّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِنَحْوٍ مِنْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فجر کی سنتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دو رکعتیں مختصر پڑھتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافرون سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: فأظنه كان ... وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح دون قولها: فأظنه كان ... وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25500 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، خَالِدٌ ، رَجُلٍ ، عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِخَلَائِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ بِهِ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25500]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فيه، راجع: 25063
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فيه، راجع: 25063
حدیث نمبر: 25501 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طوری پر وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25501]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن ابن سيرين لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن ابن سيرين لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25502 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ الْقَصَّابَ ، أَبِي هَاشِمٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ الْقَصَّابَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَإِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ قَامَ، فَقَرَأَ قَدْرَ عَشْرِ آيَاتٍ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يرَكَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو کر دس یا زیادہ آیات پڑھتے پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25502]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25503 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، بُرْدٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرْدٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ بَابُنَا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاسْتَفْتَحْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، میں آجاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے آتے، میرے لئے دروازہ کھولتے اور پھر اپنی جگہ جا کر کھڑے ہوجاتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25503]
حکم دارالسلام
حديث حسن، على بن عاصم ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث حسن، على بن عاصم ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 25504 مسند احمد
عَلِيٌّ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ مَرْدُودٌ، وَإِنْ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں موجود نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہوگی، اگرچہ سینکڑوں مرتبہ اسے شرط ٹھہرا لیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25504]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2155، م: 1504
الحكم: حديث صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 25505 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ: مَا كُنْتُ أَسْأَلُهُ؟ قَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، على بن عاصم ضعيف ولكن تابع
الحكم: حديث صحيح، على بن عاصم ضعيف ولكن تابع
حدیث نمبر: 25506 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَلَسَ مَعَهُ، قَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا، وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا؟ قَالَ: ذَاكَ مَا يُفْتِيهِمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَسَلَّمَ، فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا؟ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا، قَالَ: فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ، أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا؟ فَقَالَتْ: لَمْ يَحْفَظْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَذِهِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي، فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ، فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَأَتَانِي بِلَالٌ، فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا" . قَالَ: فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا؟ فَلَا نَدَعُهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد انہوں نے کچھ لوگوں کو نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ اندر چلے گئے، اسی اثناء میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے جن کے ہمراہ میں بھی تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ساتھ تخت پر بٹھایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے جو میں نے لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کا حکم دیتے ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس کا فتویٰ دیتے ہیں، اتنے میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر! آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے گھر میں یہ نماز پڑھی ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی دو رکعتیں ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ ابن زبیر صحیح طرح یاد نہیں رکھ سکے، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے یہاں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسیم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑ نا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ واللہ میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت ہی کرنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25506]
حکم دارالسلام
صلاة النبى صلى الله عليه و آله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وشيخه حنظلة
الحكم: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وشيخه حنظلة
حدیث نمبر: 25507 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو یوں کہتے تھے اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت بابرکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25507]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 592
الحكم: حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 592
حدیث نمبر: 25508 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ، أَنْ يَقُولَ قَبْلَ مَوْتِهِ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ". قَالَتْ: وَكَانَ يُكْثِرُ، أَنْ يَقُولَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَقَالَ:" إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَنِي، أَنِّي سَأَرَى عَلَمًا فِي أُمَّتِي، وَأَنِّي إِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعَلَمَ أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرَهُ، فَقَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ! میں آپ کو کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا پوری سورت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 484
الحكم: حديث صحيح، على بن عاصم توبع، م: 484
حدیث نمبر: 25509 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ ، عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنِ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ، قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ"، قَالَ: وَقَالَتْ الْأُخْرَى: كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ، ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ" . قَالَ: فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ، وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لأجل على وعبدالرحمن بن عتاب مبهم
الحكم: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لأجل على وعبدالرحمن بن عتاب مبهم
حدیث نمبر: 25510 مسند احمد
عَلِيٌّ ، خَالِدٍ ، وَهِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَائِشَةَ ، خَالِدٍ ، عَلِيًّا ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ خَالِدٍ ، وَهِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ب ِقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . وحَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي عَلِيًّا ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ بِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں یہ سورتیں پست آواز سے پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وكان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يسير بهما وهذا إسناد منقطع وضعيف
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وكان رسول الله ﷺ يسير بهما وهذا إسناد منقطع وضعيف
حدیث نمبر: 25511 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عِرَاكٌ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ، قَالَ: وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلَا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ عِرَاكٌ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ، قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ " أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25511]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فيه
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فيه
حدیث نمبر: 25512 مسند احمد
عَلِيٌّ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكِعَابُ مِنْ خِدْرِهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عید گاہ لے جایا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25512]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل علي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل علي
حدیث نمبر: 25513 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، صَفِيَّةَ ، عَائِشَةُ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ ، تَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ حَفْصَةُ أَوْ هُمَا تَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حفصہ رضی اللہ عنہ سے یا دونوں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25513]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على وهم فى إسناده ومتنه، م: 1490
الحكم: حديث صحيح على وهم فى إسناده ومتنه، م: 1490
حدیث نمبر: 25514 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجرَشيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجرَشيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي:" أَحِضْتِ"، فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: " فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكَ، ثُمَّ عُودِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے کھسک گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہوگئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25514]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك. والوليد لم يدرك عائشه
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك. والوليد لم يدرك عائشه
حدیث نمبر: 25515 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِسَابِ الْيَسِيرِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ فَقَالَ: " الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ، ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ، وَلَا يُصِيبُ عَبْدًا شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا قَاصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میرا حساب آسان کردیجئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا نامہ اعمال دیکھا جائے اور اس سے درگزر کیا جائے، عائشہ! اس دن جس شخص سے حساب کتاب میں مباحثہ ہوا، وہ ہلاک ہوجائے گا اور مسلمان کو جو تکلیف حتیٰ کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25515]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 25516 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: " لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1698، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 321
حدیث نمبر: 25517 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ"، فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا الْأَمْرُ؟ قَالَتْ: فَتَلَا عَلَيَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أُشَاوِرُ أَبَوَيَّ؟! بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ. قَالَتْ: فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ:" سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ". قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: فَلَا تُخْبِرْهُنَّ بِالَّذِي اخْتَرْتُ، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ، ثُمَّ يَقُولُ:" قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی بیویوں کو کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری دوسری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی چیز کھوں گا، میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں اس چیز کے متعلق نہ بتائیے گا جسے میں نے اختیار کیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور وہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بتا کر کہتے تھے کہ عائشہ نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا لیکن ہم نے اسے طلاق نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25517]
حکم دارالسلام
حديث صحيح جعفر ابن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح جعفر ابن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 25518 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عِمْرَانَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ وَهِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى بَعْدَ أَنْ أَفَاضَتْ. قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَسَى أَنْ تَحْبِسَنَا"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ، قَالَ:" فَلْتَنْفِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں ہی ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہئیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح محمد بن إسحاق مدلس ولكن توبع، خ: 1772، م: 1211
الحكم: حديث صحيح محمد بن إسحاق مدلس ولكن توبع، خ: 1772، م: 1211