بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25509
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25509
حدیث نمبر: 25509 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ ، عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنِ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ، قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ"، قَالَ: وَقَالَتْ الْأُخْرَى: كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ، ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ" . قَالَ: فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ، وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لأجل على وعبدالرحمن بن عتاب مبهم
الحكم: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لأجل على وعبدالرحمن بن عتاب مبهم
← پچھلی حدیث (25508) باب پر واپس اگلی حدیث (25510) →