مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عِمْرَانَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ وَهِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى بَعْدَ أَنْ أَفَاضَتْ. قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَسَى أَنْ تَحْبِسَنَا"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ، قَالَ:" فَلْتَنْفِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں ہی ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہئیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25518]
حکم دارالسلام
حديث صحيح محمد بن إسحاق مدلس ولكن توبع، خ: 1772، م: 1211
الحكم: حديث صحيح محمد بن إسحاق مدلس ولكن توبع، خ: 1772، م: 1211