بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 4 از 67
حدیث نمبر: 24519 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا عَائِشَةُ، قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا" , قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي، قَالَ:" وَمَا هُوَ؟" قَالَتْ: تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا. قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: وَمِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ:" تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فَسَّرَهُ رَجُلٌ: هُوَ الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24519]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24520 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عذاب القبر. لَهَا الْيَهُودِيَّةُ , قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" لَا، وَعَمَّ ذَاكَ؟" قَالَتْ: هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَ:" كَذَبَتْ يَهُودُ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَتْ: ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَاكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ، مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَظَلَّتْكُمْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، بَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت کیا کرتی تھی، حضرت عائشہ اس کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کرتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیتی کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس یہودیہ کے ساتھ میں جب بھی کوئی بھلائی کرتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہے کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جھوٹی نسبت کردیتے ہیں قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔ تھوڑے عرصے بعد " جب تک اللہ کو منظور ہوا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نصف النہار کے وقت اپنے کپڑے اوپر لپیٹے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور بآ واز بلند فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا گئے ہیں، اے لوگو! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے، اے لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو اور عذاب قبر برحق ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24521 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عائشة
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ أَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ" ، قَالَ يُونُسُ: إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اعتکاف کی حالت میں کسی ضرورت کی وجہ سے گھر میں داخل ہوتی اور وہاں کوئی شخص بیمار ہوتا تو میں محض گذرتے بڑھتے اس کی خیریت دریافت کرلیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلا ضرورت گھر میں نہ آتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 24522 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ، وَلْيَكُنْ لَنَا وَلَاؤُكِ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، قَالَتْ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِئَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کرو دو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگالے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2561، م: 1504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2561، م: 1504
حدیث نمبر: 24523 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ؟ قَالَ: " إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَمْ يَأْمُرْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، إِنَّمَا فَعَلَتْهُ هِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام حبیبہ بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 334
الحكم: إسناده صحيح، م: 334
حدیث نمبر: 24524 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عائشة
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ بُدْنِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے ہدی کا جانور بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
حدیث نمبر: 24525 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عائشة
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرَتْ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْتَنْفِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 24526 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی، ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6770، م: 1459
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6770، م: 1459
حدیث نمبر: 24527 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَمْرَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْعَدَوِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24527]
حکم دارالسلام
حديث جيد
الحكم: حديث جيد
حدیث نمبر: 24528 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1175
الحكم: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 24529 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤْنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہوتا ہے جو مشقت کے اعتبار سے سب سے آسان ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24529]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24530 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهَا عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَرَعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ، مِنَ الْخَمْسَةِ وَاحِدَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ پہلونٹھی کے بچے میں سے پانچ بکریاں ہوجائیں تو ایک بکری اللہ کے نام پر صدقہ کردی جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24530]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن عثمان
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن عثمان
حدیث نمبر: 24531 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَهُوَ حَبْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم کی ابتدائی سات سورتیں حاصل کرلے وہ بہت بڑا عالم ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24531]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وهو مكرر: 24443
الحكم: إسناده حسن، وهو مكرر: 24443
حدیث نمبر: 24532 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى، فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہوا تو وہ کہنے لگے " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24533 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ، فَجَعَلَ يُطَأْطِئُ لِي مَنْكِبَيْهِ، لِأَنْظُرَ إِلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، تاکہ میں بھی دیکھ سکوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24533]
حدیث نمبر: 24534 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرٌ ، نَافِعٌ ، سَائِبَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَائِبَةُ مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعُونَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ نَقْتُلُهُنَّ بِهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ، كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندھیں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24534]
حکم دارالسلام
الأمر بقتل الوزغ صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة مولاة الفاكه
الحكم: الأمر بقتل الوزغ صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة مولاة الفاكه
حدیث نمبر: 24535 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرٌ ، نَافِعٌ ، مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَائِشَةَ ، حَسَينٌ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ غَيْرَ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْبَتْرَاءِ، فَإِنَّهُمَا تَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ، وَتَقْتُلَانِ أَوْلَادَ الْحَبَالَى فِي بُطُونِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا، فَلَيْسَ مِنَّا" , حَدَّثَنَا بِهِمَا حَسَينٌ جَمِيعًا , عَنْ جَرِيرٍ الْمَعْنَى، وَالْإِسْنَادُ: عَنْ، عَنْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ حدیث نمبر (٢٥٠٣٩ اور ٢٥٠٤٠) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24536 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کے ساتھ تخلیق میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5954، م: 2107
حدیث نمبر: 24537 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ عِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
حدیث نمبر: 24538 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش " جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں " سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ " معمول کے ایام " نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب جحش کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24538]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح