بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24520
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24520
حدیث نمبر: 24520 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عذاب القبر. لَهَا الْيَهُودِيَّةُ , قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" لَا، وَعَمَّ ذَاكَ؟" قَالَتْ: هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَ:" كَذَبَتْ يَهُودُ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَتْ: ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَاكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ، مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَظَلَّتْكُمْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، بَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت کیا کرتی تھی، حضرت عائشہ اس کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کرتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیتی کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس یہودیہ کے ساتھ میں جب بھی کوئی بھلائی کرتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہے کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جھوٹی نسبت کردیتے ہیں قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔ تھوڑے عرصے بعد " جب تک اللہ کو منظور ہوا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نصف النہار کے وقت اپنے کپڑے اوپر لپیٹے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور بآ واز بلند فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا گئے ہیں، اے لوگو! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے، اے لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو اور عذاب قبر برحق ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (24519) باب پر واپس اگلی حدیث (24521) →