بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 65 از 67
حدیث نمبر: 25739 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 25740 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكِ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! شفاء تیرے ہی قبضے میں ہے، اس بیماری کو تیرے علاوہ کوئی بھی دور نہیں کرسکتا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5744، م: 2191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5744، م: 2191
حدیث نمبر: 25741 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ بِمَ أَدْعُو؟ قَالَ:" تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25742 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، لَمْ يُدْرِكْ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ، قَالَ:" أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهَا لَهُمْ، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک انصاری بچہ فوت ہوگیا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انصار کا یہ نابالغ بچہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہیں کوئی بات کہنا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس میں رہنے والوں کو بھی پیدا فرمایا اور یہ اسی وقت ہوگیا تھا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2662
الحكم: إسناده صحيح، م: 2662
حدیث نمبر: 25743 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي عَقِيلٍ يَحْيَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ ، بُهَيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ يَحْيَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ بُهَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْفَالَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتِ أَسْمَعْتُكِ تَضَاغِيَهُمْ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ بچوں کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں جہنم میں ان کی چیخوں کی آوازیں سنا سکتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25743]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى عقيل يحيي بن المتوكل ولجهالة بُهيَّة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى عقيل يحيي بن المتوكل ولجهالة بُهيَّة
حدیث نمبر: 25744 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ عَلَّقْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ، قَالَتْ: فَهَتَكَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چاک کردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5955، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5955، م: 2107
حدیث نمبر: 25745 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ" . قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: وَكَانَ اخْتَصَمُوا فِي عَبْدٍ اشْتَرَاهُ رَجُلٌ، فَوَجَدَ بِهِ عَيْبًا، وَقَدْ اسْتَغَلَّهُ، فَقَالَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25745]
حکم دارالسلام
حديث حسن وهذا إسناده ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
الحكم: حديث حسن وهذا إسناده ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
حدیث نمبر: 25746 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا ، وَيَزِيدُ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا . وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا قَالَ يَزِيدُ: قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ"، فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
حدیث نمبر: 25747 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، سَمِعَهُ مِنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟! أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25747]
حکم دارالسلام
حديث منكر، محمد بن عمران الحجبي لم يعرف إلا بهذا الحديث
الحكم: حديث منكر، محمد بن عمران الحجبي لم يعرف إلا بهذا الحديث
حدیث نمبر: 25748 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي" . قَالَ وَكِيعٌ: الْغَثَيَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6179، م: 2250
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6179، م: 2250
حدیث نمبر: 25749 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25750 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يُبَاشِرُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حلان کہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 300، 301، م: 293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 300، 301، م: 293
حدیث نمبر: 25751 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ" . قَالَتْ: وَإِنَّمَا" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، جَهِدَ النَّاسُ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن سے زیادہ گندم کے کھانے سے کبھی پیٹ نہیں بھرا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25751]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، م: 2970
حدیث نمبر: 25752 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، وَأَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . وَأَسْوَدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ قَالَ أَسْوَدُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25752]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
حدیث نمبر: 25753 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ، وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ، وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ، وَالْفَأْرَةُ فَاسِقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے، اسی طرح بچھو، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 25754 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَ لَهَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ. قَالَتْ: وَهِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمَا وَهِلَ يَوْمَ قَلِيبِ بَدْرٍ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" يَعْنِي الْكَافِرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3978، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3978، م: 932
حدیث نمبر: 25755 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ نے اپنے مالک سے " مکاتب " کا معاملہ کر رکھا تھا اور اس کا شوہر ایک غلام تھا، لہذا جب وہ آزاد ہوئی تو اسے نکاح برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار مل گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25755]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25756 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَأْثَمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6786، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6786، م: 2327
حدیث نمبر: 25757 مسند احمد
وَكِيعٌ ، نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ، فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، وہ ہاتھوں سے ٹٹولنے لگیں تو ان کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کو جا لگے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ پروردگار! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور کار ساز ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25757]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 25758 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ فِي الْبَيْتِ، فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَنَ فَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر جاتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25758]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن مجاهدا لم يسمع هذا الحديث من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لأن مجاهدا لم يسمع هذا الحديث من عائشة