وَكِيعٌ ، نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ، فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، وہ ہاتھوں سے ٹٹولنے لگیں تو ان کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کو جا لگے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ پروردگار! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور کار ساز ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25757]
الحكم: رجاله ثقات