وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ نے اپنے مالک سے " مکاتب " کا معاملہ کر رکھا تھا اور اس کا شوہر ایک غلام تھا، لہذا جب وہ آزاد ہوئی تو اسے نکاح برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار مل گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25755]
الحكم: حديث صحيح