عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: " لَا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25541]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة
الحكم: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة