بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 55 از 67
حدیث نمبر: 25539 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، زُبَيْدٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ مُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25539]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6014، م: 2224
الحكم: حديث صحيح، خ: 6014، م: 2224
حدیث نمبر: 25540 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ فَقَالَتْ:" نَعَمْ، أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ"، فَقُلْتُ لَهَا: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: فَضَحِكَتْ، وَقَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ باللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کھانا حرام قراد دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے، میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5423، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5423، م: 2970
حدیث نمبر: 25541 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: " لَا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25541]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة
الحكم: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة
حدیث نمبر: 25542 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي، وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگرچہ میں ایام سے ہوتی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کا بوسہ لے لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25542]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25543 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، لَيْثٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءٍ وَلَا نَقْضِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
حدیث نمبر: 25544 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ قَالَ أَبُو كَامِلٍ: أُمُّ حَبِيبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ، وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ، فَقَالَ: " لَيْسَ هَذَا بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" . فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ، فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ، ثُمَّ تُصَلِّي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ " معمول کے ایام " نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25544]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 327، م: 334
الحكم: إسناده صحيح، خ: 327، م: 334
حدیث نمبر: 25545 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ: فِي تَرَجُّلِهِ وَفِي طُهُورِهِ، وَفِي نَعْلِهِ" . قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَوْ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
الحكم: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25546 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ : فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ، ثُمَّ تَرَكْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا، عصر کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر آخر دم تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ترک نہیں فرمایا: عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ہم یہ نماز پڑھتے تھے، بعد میں ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25546]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 25547 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ:" هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: " فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ، فَاسْتَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ، فَحَرِّمُوهُ" . وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" الْقُرْآنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم سورة مائدہ پڑھتے ہوئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے، اس لئے تمہیں اس میں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو اس سورت میں حرام قرار دیا گیا ہو اسے حرام سمجھو، پھر میں نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا قرآن۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25547]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25548 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان کے مہینے میں روزے رکھنا سب سے زیادہ محبوب تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25548]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح
الحكم: إستاده صحيح
حدیث نمبر: 25549 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں رہنے والے بھوکے ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2046
الحكم: إسناده صحيح، م: 2046
حدیث نمبر: 25550 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25550]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 25551 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ، عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ، فَشَقَقْنَهُ، ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهُ خُمُرًا، وَأَنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي، عَنِ الطُّهُورِ مِنَ الْمَحِيضِ، فَقَالَ: " نَعَمْ، لِتَأْخُذْ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَلْتَطَّهَّرْ، ثُمَّ لِتُحْسِنْ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ لِتُلْزِقْ بِشُؤُونِ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَدْلُكْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ طُهُورٌ، ثُمَّ تَصُبَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ تَأْخُذْ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَلْتَطَّهَّرْ بِهَا" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْنِي عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: تَتْبَعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ . قَالَ عَفَّانُ: ثُمَّ لِتَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا مِنَ الْمَاءِ، وَلْتُلْصِقْ شُؤُونَ رَأْسِهَا فَلْتَدْلُكْهُ، قَالَ عَفَّانُ: إِلَى حُجَزٍ أَوْ حُجُوزٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 332
الحكم: حديث صحيح، م: 332
حدیث نمبر: 25552 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، صَدَقَةَ ، جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ صَدَقَةَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْ إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جمیع بن عمیر " جن کا تعلق بنوتیم اللہ بن ثعلبہ سے تھا " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا، ان میں سے ایک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے تو نماز والا وضو فرماتے تھے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہاتے تھے اور ہم اپنی مینڈھیوں کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ مرتبہ پانی بہاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25552]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جميع بن عمير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جميع بن عمير
حدیث نمبر: 25553 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25553]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 253
الحكم: إسناده صحيح، م: 253
حدیث نمبر: 25554 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، أَبِي نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ؟ فَقَالَتْ:" قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25555 مسند احمد
وَقَالَ: وَقَالَ: عَنْ عَائِشَةَ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جامع دعائیں پسند تھیں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چھوڑ دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، إسناده سابقه
الحكم: إسناده صحيح، إسناده سابقه
حدیث نمبر: 25556 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَالزُّمَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم کہتے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وكان يقرأ ... وهذا إسناد فيه أبو لبابة فيه كلام
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وكان يقرأ ... وهذا إسناد فيه أبو لبابة فيه كلام
حدیث نمبر: 25557 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهِ إِثْمٌ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25557]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25558 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صَوْمِهِ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" . وَإِنَّهُ كَانَ " أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہنیے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو کہ جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782