عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ : فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ، ثُمَّ تَرَكْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا، عصر کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر آخر دم تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ترک نہیں فرمایا: عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ہم یہ نماز پڑھتے تھے، بعد میں ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25546]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه