عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صَوْمِهِ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" . وَإِنَّهُ كَانَ " أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہنیے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو کہ جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782