بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 24 از 67
حدیث نمبر: 24919 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ كَانَ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ، فَأَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدیقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24919]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1493، م:1504
الحكم: حديث صحيح، خ: 1493، م:1504
حدیث نمبر: 24920 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ . وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟" قَالُوا: النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلُحَ". فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ، فَصَارَ شِيصًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ بِهِ، وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہورہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2363
الحكم: إسناده صحيح، م: 2363
حدیث نمبر: 24921 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب سو کر بیدار ہوتے تو مسواک کرتے، وضو کرتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ہر دو رکعتوں پر بیٹھ کر سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ پھر پانچویں رکعت پر ہی بیٹھتے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 737
الحكم: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 24922 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں میں نبیذ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24922]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24923 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا: كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا، ائْتَزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ، ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ بِثَدْيَيْهَا، وَنَحْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پھوپھی اور خالہ نے ان سے پوچھا کہ جب آپ میں سے کسی کو ' ایام " آجاتے تو آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کیا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم کشادہ تہبند باندھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنی چھاتی اور سینہ لگاسکتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24923]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
الحكم: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 24924 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدُ الرِّشْكُ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: يَزِيدُ الرِّشْكُ أَخْبَرَنِي، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا؟ قَالَتْ " نَعَمْ أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 24925 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24925]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24926 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا أَيَّامَ الْعَشْرِ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1176
الحكم: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 24927 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ عَنْ ذَلِكَ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5735
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5735
حدیث نمبر: 24928 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24928]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالله البهي اختلف فى سماعه من عائشة ، خ: 1950، م: 1146
الحكم: حديث صحيح، عبدالله البهي اختلف فى سماعه من عائشة ، خ: 1950، م: 1146
حدیث نمبر: 24929 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ... سورة آل عمران آية 7 حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، قَالَ: " قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24929]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
حدیث نمبر: 24930 مسند احمد
قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ التَّيْمِيِّ ، مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ، وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا، فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى، فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ، ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ، فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى، فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ". فَقِيلَ لَهُ: أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ؟ قَالَ:" مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ صبح کے وقت کسی مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نبیذ باتے تھے، ہم اسے شراب بننے دیتے تھے اور نہ ہی اس کا تلچھٹ بناتے تھے، شام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اسے بھی نوش فرمالیتے، اگر کچھ پانی بچتا تو میں اسے فارغ کردیتی یا بہا دیتی تھی اور مشکیزہ دھو دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24930]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمرة
حدیث نمبر: 24931 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِمَ عُمَرُ، إِنَّمَا" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلے میں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 8330
الحكم: إسناده صحيح، م: 8330
حدیث نمبر: 24932 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، حَتَّى حَاضَتْ، فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: " يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَلِعُمْرَتِكِ". فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچیں لیکن ابھی بیت اللہ کا طواف نہ کرنے پائی تھیں کہ ان کے " ایام " شروع ہوگئے انہوں نے حج کا احرام باندھنے کے بعد تمام مناسک حج ادا کئے، دس ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارا طواف حج اور عمرہ دونوں کے لئے کافی ہوجائے گا، انہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ان کے بھائی عبدالرحمن کے ہمراہ تنعیم بھیج دیا اور انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 24933 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِيَ، قَالَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مؤ ذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھےأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24933]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن ميمون لم يذكر له سماع من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن ميمون لم يذكر له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 24934 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے معدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24934]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: بعد أيام، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
الحكم: حديث صحيح دون قوله: بعد أيام، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
حدیث نمبر: 24935 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ، وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ: " أَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا کر خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل حماد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل حماد
حدیث نمبر: 24936 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَذْهَبُ فَيُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24936]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حماد توبع
الحكم: حديث صحيح، حماد توبع
حدیث نمبر: 24937 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ:" جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24937]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وحماد، وهو ابن أبى سليمان متابع
الحكم: حديث صحيح، وحماد، وهو ابن أبى سليمان متابع
حدیث نمبر: 24938 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّهُ سَمِعَهَا , تَقُولُ: كُنْتُ عَلَى بَعِيرٍ صَعْبٍ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک مضبوط اونٹ پر سوار ہوئی تو اسے مارنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2094
الحكم: إسناده صحيح، م: 2094