بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 9 از 67
حدیث نمبر: 24619 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَفْصٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَقَالَ: " هَذَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھجور سے گھٹی دی اور فرمایا یہ عبداللہ ہے تم ام عبداللہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24619]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
حدیث نمبر: 24620 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مِنْهُ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، زَكَرِيَّا ، خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَتَيْهَا. ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ، فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دُونَكِ فَانْتَصِرِي". فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا، مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب میرے گھر میں غصے کی حالت میں اجازت لئے بغیر آگئیں اور مجھے پتہ بھی نہ چلا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے جب ابوبکر کی بیٹی اپنی قمیض پلٹتی ہے (تو آپ کو مسحور کرلیتی ہے) پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں لیکن میں نے ان سے اعراض کیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنا بدلہ لے سکتی ہو، چنانچہ میں ان کی طرف متوجہ ہوئی اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کے منہ میں ان کا تھوک خشک ہوگیا ہے اور وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے پا رہیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر خوشی کے آثار دیکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24620]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24621 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَفْصٌ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: " لَا، يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24621]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 214
الحكم: إسناده صحيح، م: 214
حدیث نمبر: 24622 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَرْمَلَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَتْ: أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا، فَرَفَقَ بِهِمْ، فَارْفُقْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے اسی گھر میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1828
الحكم: إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 24623 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا، فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ، وَقَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ" عَائِشَةُ تَقُولُهُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے اور یہ بواسیر کے مرض کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24623]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وهو شفاء من
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وهو شفاء من
حدیث نمبر: 24624 مسند احمد
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24624]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، بقية توبع
الحكم: حديث صحيح، بقية توبع
حدیث نمبر: 24625 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24625]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24626 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَزِيدَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا"، قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِئَةِ دِرْهَمٍ،" فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو کتنا کتنا مہر دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج (میں سے ہر ایک) کو بارہ اوقیہ اور ایک نش دیا تھا، تم جانتے ہو کہ " نش " کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا نصف اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہ ہے وہ مہر جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24626]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24627 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبَاهُ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ , عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ" . قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ أَشْعَثُ الْكُوفَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
الحكم: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 24628 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " الدَّائِمُ". قُلْتُ: فَأَيُّ سَاعَةٍ كَانَ يَقُومُ؟ قَالَتْ:" إِذَا سَمِعَ الصَّرْخَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
حدیث نمبر: 24629 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبیلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24630 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24631 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا، فَأَمْسَكْتُ، وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَتْ: أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ، قَالَتْ: تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ: هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ. قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا" . قَالَ حُمَيْدٌ: فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، فَقَالَ: لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایا بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہوا اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن محرز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے دو مہینوں کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24631]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن حميد الم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن حميد الم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24632 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبَاهُ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ. قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور محسوس ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5102، م: 1455
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5102، م: 1455
حدیث نمبر: 24633 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ : إِحْدَانَا تَحِيضُ، أَتُجْزِئُ صَلَاتَهَا؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
الحكم: إسناده صحيح، خ: 321، م: 335
حدیث نمبر: 24634 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْمَاهِرَ بِهِ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ تَشْتَدُّ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4937 ، م: 798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4937 ، م: 798
حدیث نمبر: 24635 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ، فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَأَذِنَ لِي، وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 24636 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنَ اللَّيْلِ، غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ النَّهَارِ. قَالَتْ: وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ يُتِمُّهُ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ حَتَّى مَاتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا اے ام المومنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوڑ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24636]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 24637 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ أَخْطَأَ سَمْعُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ"، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! حضرت ابن عمر سے سننے میں چوک ہوگئی ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک قبر پر گذر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے اس کے اعمال کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں ورنہ واللہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24637]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24638 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: " أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار رکعتیں اور اللہ کو جتنی رکعتیں منظور ہوتیں، اس پر اضافہ بھی فرمالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719