هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَرْمَلَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَتْ: أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا، فَرَفَقَ بِهِمْ، فَارْفُقْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے اسی گھر میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1828
الحكم: إسناده صحيح، م: 1828