عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا، فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ، وَقَالَتْ: مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ" عَائِشَةُ تَقُولُهُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے اور یہ بواسیر کے مرض کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24623]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وهو شفاء من
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وهو شفاء من