بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا، فَأَمْسَكْتُ، وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَتْ: أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ، قَالَتْ: تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ: هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ. قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا" . قَالَ حُمَيْدٌ: فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، فَقَالَ: لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایا بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہوا اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن محرز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے دو مہینوں کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24631]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن حميد الم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن حميد الم يسمع من عائشة