بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 50 از 67
حدیث نمبر: 25439 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6462
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6462
حدیث نمبر: 25440 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" . قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1583، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1583، م: 1333
حدیث نمبر: 25441 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَة، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ:" هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ"، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1556، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1556، م: 1211
حدیث نمبر: 25442 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَوَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَاخْرُجْنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ کیا صفیہ نے تمہارے ساتھ طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 328، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 328، م: 1211
حدیث نمبر: 25443 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ:" فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ علي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے " جو ان کے رضاعی چچا تھے " آیت حجاب کے نزول کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نا محرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5103، م: 1445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5103، م: 1445
حدیث نمبر: 25444 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی البتہ میں پڑھتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 25445 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْدَى أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ، فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَى أَبِي جَهْمٍ، فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَكَادَ يَفْتِنُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش ونگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، اس لئے یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس ایک سادہ چادر لے آؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25445]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25446 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: " رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ، إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ" وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگے، لوگ جمع ہوئے اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، اگلی رات کو پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، تیسرے دن بھی یہی ہوا۔ چوتھے دن بھی لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد میں مزید کسی آدمی کے آنے کی گنجائش نہ رہی لیکن اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں بیٹھے رہے اور باہر نہیں نکلے، پھر جب فجر کی نماز پڑھائی تو فرمایا تمہاری آج رات کی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوچلا تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہوجائے اور پھر تم اس سے عاجز آجاؤ اور یہ رمضان کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1129، م: 761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1129، م: 761
حدیث نمبر: 25447 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پھر صبح کی اذان سن کردو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1170، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1170، م: 724
حدیث نمبر: 25448 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا حَتَّى أَسَنَّ، فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، ثُمَّ رَكَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے رکوع میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1118
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1118
حدیث نمبر: 25449 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي النَّضْر ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي النَّضْر مولى عمر بن عبيد الله، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ، فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتیں " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1119، م: 731
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1119، م: 731
حدیث نمبر: 25450 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي يُونُسَ ، عَائِشَةُ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ"، ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو یونس " جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھ دوں اور فرمایا جب تم اس آیت حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى پر پہنچو تو مجھے بتانا، چنانچہ میں جب وہاں پہنچا تو انہیں بتادیا، انہوں نے مجھے یہ آیت تو لکھوائی حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ اور فرمایا کہ میں نے یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 629
الحكم: إسناده صحيح، م: 629
حدیث نمبر: 25451 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ، أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجہ میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25451]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 25452 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلَاثِ، أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟"، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ کے حوالے سے تین قضیے سامنے آئے، وہ آزاد ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہذا تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5098، م: 1504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5098، م: 1504
حدیث نمبر: 25453 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَاهُ فُلَانًا" لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، أُدْخِلُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی کی آواز آئی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا، میں نے عرض کے یارسول اللہ! یہ آدمی آپ کے گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ فلاں آدمی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اشارہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے رضاعی چچا کی طرف تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر فلاں آدمی یعنی میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے پاس بھی آسکتا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2646، م: 1444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2646، م: 1444
حدیث نمبر: 25454 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 867، م: 645
الحكم: إسناده صحيح، خ: 867، م: 645
حدیث نمبر: 25455 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَصْبَحَ النَّاسُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحَضِيرِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم مقام بیداء یا ذات الحبیش میں پہنچے تو میرا ہار کہیں گر کر گم ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وہ ہار تلاش کرنے کے لئے بھیجا اور لوگ وہاں رک گئے، ادھر نماز کا وقت ہوگیا تھا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے دیکھئے تو سہی، عائشہ نے کیا کردیا؟ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ رکوا دیا جہاں پانی نہیں ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور لوگوں کو روک دیا جب کہ ان کے پاس پانی تک نہیں ہے اور انہوں نے مجھے سخت ڈانٹا اور جو اللہ کو منظور ہوا، وہ مجھے کہا اور اپنے ہاتھ میری کوکھ میں چبھونے لگے اور میں اپنی ران پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کی وجہ سے حرکت بھی نہ کرسکی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں ہی سوتے رہے اور صبح تک لوگوں کو پانی نہ ملا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما دیا، اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے آل ابی بکر یہ! تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، وہ کہتی ہیں کہ جس اونٹ پر میں سوار تھی، جب اسے اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 334، م: 367
الحكم: إسناده صحيح، خ: 334، م: 367
حدیث نمبر: 25456 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دیا، وہ بھی روزے سے تھے اور میں بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25456]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25457 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَبِي عُذْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبندے کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25457]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
حدیث نمبر: 25458 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، أَبِي الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ ، سُفْيَانُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ" . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو اور وہاں رہنے والے بھوکے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2046
الحكم: إسناده صحيح، م: 2046