عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ:" فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ علي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے " جو ان کے رضاعی چچا تھے " آیت حجاب کے نزول کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نا محرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5103، م: 1445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5103، م: 1445