بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 19 از 67
حدیث نمبر: 24819 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : حَدِّثِينِي بِأَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع: 24628
الحكم: حديث صحيح، راجع: 24628
حدیث نمبر: 24820 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: أَمَّا عَلِيٌّ، فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا، وَأَمَّا عَمَّارٌ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس ایک آدمی آیا اور حضرت علی و عمار کی شان میں گستاخی کرنے لگا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت علی کے متعلق تو میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتی (کہ انکا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ وہ تو واضح ہے) اور جہاں تک حضرت عمار کا تعلق ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان اختیار حاصل ہو تو وہ اسی راستے کو اختیار کرے جو ان میں سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24821 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کا ولیمہ دو مد جو سے بھی کیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24822 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا"، قُلْتُ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟ قَالَتْ:" كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا رَكَعَ جَالِسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24823 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , وَمَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَشْهَدُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ فِي يَوْمِي قَطُّ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دور رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 593
الحكم: إسناده صحيح، خ: 593
حدیث نمبر: 24824 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَيَدْخُلُ مَعِي فِي لِحَافِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " ایام کی حالت میں " بھی میرے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے اور اسی حالت میں میرے لحاف میں بھی آجاتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 302، م: 293
حدیث نمبر: 24825 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ السُّلَمِيُّ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ السُّلَمِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْعُمْرَةِ بَعْدَ الْحَجِّ؟ قَالَتْ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي أَخِي، فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ، فَاعْتَمَرْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیسیٰ بن عبدالرحمن اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے بعد عمرے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیجا، میں نے حرم سے باہر جا کر احرام باندھا اور عمرہ کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24825]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل والدة عيسي بن عبدالرحمن، فإنها مجهولة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل والدة عيسي بن عبدالرحمن، فإنها مجهولة
حدیث نمبر: 24826 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، وَيَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَيَزِيدَ الرِّشْكِ , عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَإِنَّا نَسْتَحْيِي مِنْهُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتیں ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24827 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام؟" قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِرَادَةَ أَنْ تَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ، مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر حضرت عائشہ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24827]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى أويس، خ: 1585، م: 1333
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى أويس، خ: 1585، م: 1333
حدیث نمبر: 24828 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَتْ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24828]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو أويس ضعيف، ولكن متابع، خ: 5640، م: 2572
الحكم: حديث صحيح، أبو أويس ضعيف، ولكن متابع، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 24829 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ: مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا، فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ، قَالَ: " اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الاّ یہ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کرلیتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24829]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 4891، م: 1866
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 4891، م: 1866
حدیث نمبر: 24830 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ، هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24830]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى أويس، ولكن توبع ، خ: 3560، م: 2327
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى أويس، ولكن توبع ، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 24831 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ". قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده كسابقه، خ: 5016، م: 2192
الحكم: حديث صحيح، وإسناده كسابقه، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 24832 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أُرَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ؟ قَالَ:" إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24832]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 298
الحكم: إسناده صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24833 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت سے نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 590
الحكم: إسناده صحيح، خ: 590
حدیث نمبر: 24834 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 521، م: 2445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 521، م: 2445
حدیث نمبر: 24835 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ، فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ، فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِرِّيهَا، فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے ایک تھالی میں انہیں کچھ کھجوریں ہدیہ کیں، انہوں نے تھوڑی سی کھالیں اور کچھ چھوڑ دیں، اس عورت نے کہا آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ باقی کھجوریں بھی کھالیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم پوری کردو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن أبا الزاهرية لم يسمع من عائشه
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن أبا الزاهرية لم يسمع من عائشه
حدیث نمبر: 24836 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَإِنَّا نَسْتَحِي مِنْهُمْ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24836]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24837 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو يَحْيَى ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ الْأَسَدِيُّ أَبُو يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا اسْتَسْمَعْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً، فَإِنَّ عُثْمَانَ جَاءَهُ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاءَهُ فِي أَمْرِ النِّسَاءِ، فَحَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ عَلَى أَنْ أَصْغَيْتُ إِلَيْهِ، فَسَمِعْتُهُ , يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُكَ قَمِيصًا تُرِيدُكَ أُمَّتِي عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ" . فَلَمَّا رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَبْذُلُ لَهُمْ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا خَلْعَهُ، عَلِمْتُ أَنَّهُ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی بات (جب وہ دوسرے سے کر رہے ہوں) کان لگا کر کبھی نہیں سنی، البتہ ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ حضرت عثمان غنی دوپہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سمجھی کہ شاید وہ خواتین کے معاملات میں گفتگو کررہے ہیں تو مجھے غیرت آئی اور میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے فرما رہے تھے، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، پھر جب میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان لوگوں کے سارے مطالبات پورے کردیتے ہیں سوائے خلافت سے دستبرداری کے تو میں سمجھ گئی کہ یہ وہی عہد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24837]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة، لأن والد إسحاق لم يسمع من عائشة كما صرح بذلك
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة، لأن والد إسحاق لم يسمع من عائشة كما صرح بذلك
حدیث نمبر: 24838 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، مَسْرُوقٍ ، أَبِي الضُّحَى ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ . وَعَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِمَرِيضٍ، قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24838]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 5675، م: 2191
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 5675، م: 2191