بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 15 از 67
حدیث نمبر: 24739 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، أَبَا الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الرِّجَالِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24739]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير عبدالرحمن بن أبى الرجال، وهو صدوق
الحكم: رجاله ثقات غير عبدالرحمن بن أبى الرجال، وهو صدوق
حدیث نمبر: 24740 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أبي ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أبي يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ كَأَنَّ لَيْسَ فِيهِ طَعَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ گھر جس میں کھجور نہ ہو، ایسے ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24740]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24741 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، أَبِي ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نَقْعِ الْبِئْرِ، وَهُوَ الرَّهْوُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسی جگہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے، جہاں لوگوں کا گندہ پانی اکٹھا ہوجاتا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24741]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24742 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، أَبِي ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي، ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمَرَةَ أَرْضِهِ، فَأَتَيْنَاهُ نَسْتَوْضِعُهُ، وَاللَّهِ مَا أَصَبْنَا مِنْ ثَمَرِهِ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا أَكَلْنَا فِي بُطُونِنَا، أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا، تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا، تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا!" فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ شِئْتَ الثَّمَرَ كُلَّهُ، وَإِنْ شِئْتَ مَا وَضَعُوا، فَوَضَعَ عَنْهُمْ مَا وَضَعُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ، آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں آدمی سے اس کی زمین کے پھل خریدے، ہم نے اس فصل کو کاٹا اور پھلوں کو الگ کیا تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو معزز کیا، ہمیں اس میں سے صرف اتنا ہی حاصل ہوسکا جو ہم خود اپنے پیٹ میں کھا سکے یا برکت کی امید سے کسی مسکین کو کھلا دیں، اس طرح ہمیں نقصان ہوگیا، ہم مالک کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمارے اس نقصان کی تلافی کر دے تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ ہمارے نقصان کی کوئی تلافی نہیں کرے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کیا اس نے نیکی نہ کرنے کی قسم کھالی؟ اس آدمی کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں ان کے نقصان کی تلافی کردوں (اور مزید پھل دے دوں) اور اگر آپ چاہیں تو میں انہیں پیسے دے دیتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمائش پر اس نے ان کے نقصان کی تلافی کردی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24742]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24743 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، أَبِي ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنَ الشَّهْرِ، جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَحْلِفْ شَهْرًا؟ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24743]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24744 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِي ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَتَأْمَنَ مِنَ الْعَاهَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھلوں کو اس وقت تک بیچنے کی ممانعت فرمائی ہے، جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوظ نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24744]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24745 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو قُدَامَةَ الْعُمَرِيُّ ، عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ ، أُمِّ ذَرَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو قُدَامَةَ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ سَعْدٍ ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ عَائِشَةَ تُصَلِّي الضُّحَى، وَتَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام ذرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف چار رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24745]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف لجهالة عثمان بن عبدالملك
الحكم: حديث ضعيف لجهالة عثمان بن عبدالملك
حدیث نمبر: 24746 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيّ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوران نماز دائیں بائیں دیکھنے کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اچک لینے والا حملہ ہوتا ہے جو شیطان انسان کی نماز سے اچک لیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 751
الحكم: إسناده صحيح، خ: 751
حدیث نمبر: 24747 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، السُّدِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: إِنَّهَا حَائِضٌ؟ قَالَ:" إِنَّ حَيْضَهَا لَيْسَ فِي يَدِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے " ایام " اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24747]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
حدیث نمبر: 24748 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَحَرَّى صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیر اور جمعرات کے روزے کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24748]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
حدیث نمبر: 24749 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ: " يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيُرَقِّعُ ثَوْبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24749]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 676
الحكم: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24750 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَالِمٌ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ سَالِمٌ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ :" كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا يَرْمِي الْجَمْرَةَ، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ إِلَى الْبَيْتِ" ، قَالَ سَالِمٌ: فَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ نَأْخُذَ بِهَا مِنْ قَوْلِ عُمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، سالم کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے قول کو لینے سے سنت رسول پر عمل کرنے کا حق زیادہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24750]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل ضعيف ولكن روايته عن سفيان صحيحة، ثم هو متابع
الحكم: حديث صحيح، مؤمل ضعيف ولكن روايته عن سفيان صحيحة، ثم هو متابع
حدیث نمبر: 24751 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، قَالَ: " ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ، فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ، وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ". ثُمَّ قَالَ:" يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ" مَرَّتَيْنِ ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً:" وَالْمُؤْمِنُونَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً: وَالْمُؤْمِنُونَ. إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي، فَكَانَ أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو فرمایا ابوبکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ وہ ایک تحریر لکھ دے اور ابوبکر کے معاملے میں کوئی طمع رکھنے والا طمع نہ کرسکے اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا نہ کرسکے، پھر فرمایا اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ ابوبکر کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24751]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مؤمل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مؤمل
حدیث نمبر: 24752 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، خَالِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ خَالِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا، لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مریو ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے اپنے آپ کو پیش آنے والے وساوس کی شکایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ایسے وسو سے آتے ہیں کہ ہمیں وہ زبان پرندے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ہم آسمان سے نیچے گرپڑیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24752]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل و شهر بن حوشب ، ولابهام خاله
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل و شهر بن حوشب ، ولابهام خاله
حدیث نمبر: 24753 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ، فَتَرَكَتْهُ، فَدَخَلَتْ عَلَيَّ، فَقُلْتُ لَهَا: أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ؟ فَقَالَتْ: مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ، قُلْتُ: لَهَا مَا لَكِ؟ قَالَتْ: عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ , فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ؟" , قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے شوہر موجود ہیں یا کہیں گئے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ہونا بھی نہ ہونے کی طرح ہے، میں نے کہا کیا مطلب؟ انہوں نے کہا کہ عثمان دنیا اور عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے، تھوڑی دیر بعد بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ پات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! کیا تم ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جن پر ہم ایمان لائے؟ انہوں نے عرض کیا جی یارسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ہمارے اسوہ پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24753]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل مؤمل
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل مؤمل
حدیث نمبر: 24754 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، أَبِي فَاخِتَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعُثْمَانَ:" أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ؟" , قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24754]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث حسن، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24755 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سُفْيَانَ ، رَجُلًا آخَرَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَذَكَرَ رَجُلًا آخَرَ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے، پھر جب سونے کے بعد رات کے آخری پہر میں بیدار ہوتے تو دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس جاتے اور پھر غسل فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24755]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24756 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي. قَالَ: " فَتَكَنَّيْ بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24756]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل متابع
الحكم: حديث صحيح، مؤمل متابع
حدیث نمبر: 24757 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24757]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
حدیث نمبر: 24758 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا، مَرّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، البتہ وہ بھول گئے ہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گذرے تھے جس پر لوگ رو رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہورہا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932