مُؤَمَّلٌ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، قَالَ: " ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ، فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ، وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ". ثُمَّ قَالَ:" يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ" مَرَّتَيْنِ ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً:" وَالْمُؤْمِنُونَ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً: وَالْمُؤْمِنُونَ. إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي، فَكَانَ أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو فرمایا ابوبکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ وہ ایک تحریر لکھ دے اور ابوبکر کے معاملے میں کوئی طمع رکھنے والا طمع نہ کرسکے اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا نہ کرسکے، پھر فرمایا اللہ اور مومنین اس بات سے انکار کردیں گے کہ ابوبکر کے معاملے میں اختلاف کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24751]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مؤمل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مؤمل