مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، خَالِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ خَالِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا، لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مریو ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے اپنے آپ کو پیش آنے والے وساوس کی شکایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ایسے وسو سے آتے ہیں کہ ہمیں وہ زبان پرندے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ہم آسمان سے نیچے گرپڑیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24752]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل و شهر بن حوشب ، ولابهام خاله
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل و شهر بن حوشب ، ولابهام خاله