بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24753
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24753
حدیث نمبر: 24753 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ، فَتَرَكَتْهُ، فَدَخَلَتْ عَلَيَّ، فَقُلْتُ لَهَا: أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ؟ فَقَالَتْ: مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ، قُلْتُ: لَهَا مَا لَكِ؟ قَالَتْ: عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ , فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ؟" , قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے شوہر موجود ہیں یا کہیں گئے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ہونا بھی نہ ہونے کی طرح ہے، میں نے کہا کیا مطلب؟ انہوں نے کہا کہ عثمان دنیا اور عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے، تھوڑی دیر بعد بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ پات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! کیا تم ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جن پر ہم ایمان لائے؟ انہوں نے عرض کیا جی یارسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ہمارے اسوہ پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24753]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل مؤمل
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل مؤمل
← پچھلی حدیث (24752) باب پر واپس اگلی حدیث (24754) →