بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 56 از 67
حدیث نمبر: 25559 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قال: حدثنا. وَيَزِيدُ ، قَالَا: أَخبرنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 738
الحكم: إسناده صحيح، م: 738
حدیث نمبر: 25560 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَكَانَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ عَنْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ:" مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً، فَقَالَ: " لَقَدْ مَزَجْتِ بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَ بِهَا مَاءُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں، میں نے کہہ دیا یا رسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی ہے اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25560]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25561 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ لَمْ يَسْمَعْ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ، يَعْنِي حَدِيثَ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ تَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25561]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25562 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ:" لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ كَانَ يُطِيقُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1987، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1987، م: 782
حدیث نمبر: 25563 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ، ثُمَّ يُبَاشِرُنِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حا لان کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 301، م: 293
الحكم: إسناده صحيح، خ: 301، م: 293
حدیث نمبر: 25564 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْتَرِي بَرِيرَةَ وَأَشْتَرِطُ لَهُمْ الْوَلَاءَ، قَالَ: " اشْتَرِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ، أَوْ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے بار گاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! بریرہ کو آزاد میں کروں اور ولاء اس کے مالکوں کے لئے مشروط کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2536، م: 6760
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2536، م: 6760
حدیث نمبر: 25565 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1703
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1703
حدیث نمبر: 25566 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ الْعَشْرَ" . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَأَسْنَدَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1176
الحكم: إسناده صحيح، م: 1176
حدیث نمبر: 25567 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَوَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَوَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ: " سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي". يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ . قَالَ وَكِيعٌ: اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن کریم پر عمل فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 817، م: 484
حدیث نمبر: 25568 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَاةٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شرمگاہ پر نظر نہیں ڈالی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25568]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام مولاة لعائشه
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام مولاة لعائشه
حدیث نمبر: 25569 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَيُصْبِحُ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25569]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حماد
حدیث نمبر: 25570 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ، تَرَكَ عَمَلَهُ، وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ"، فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ، حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنْ مَطَرَتْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز میں ہی ہوتے اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلادھار اور نفع بخش۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25571 مسند احمد
عبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 25572 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ؟ فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5585، م: 2001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5585، م: 2001
حدیث نمبر: 25573 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالا ن کہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7549
حدیث نمبر: 25574 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ . قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَيَأْمُرُ الَّذِي يَسُوقُهَا لَهُ مِنْ مَعْلَمٍ قَدْ أَمَرَهُ فَيُقَلِّدُهَا، وَلَا يَزَالُ مُحْرِمًا حَتَّى يُحِلَّ النَّاسُ. قَال: فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ:" لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہاں ایک آدمی جو خانہ کعبہ کی طرف ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے اور لے جانے والے سے کوئی علامت مقرر کرلیتا ہے، اس کے گلے میں قلادہ باندھتا ہے اور جب تک لوگ حلال نہیں ہوجاتے وہ بھی محرم بن کر رہتا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج کی ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے یہاں تک کہ لوگ واپس آجاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25575 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا، اس لئے جو چاہے پڑاؤ کرلے اور جو چاہے نہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25576 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مَنْصُورٌ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؟ قَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لوگوں کے سامنے تلاوت فرمایا اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2084، م: 1580
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2084، م: 1580
حدیث نمبر: 25577 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا، وَمَا يُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25578 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ . وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى، إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25578]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 294، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 294، م: 1211