بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 41 از 67
حدیث نمبر: 25259 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ، وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا جس شخص کو نرمی کا حصہ دیا گیا، اسے دنیا و آخرت کی بھلائی کا حصہ مل گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی شہروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25260 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25260]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن من اجل الحارث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن من اجل الحارث
حدیث نمبر: 25261 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ، فَقَسَمَ لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ" . قَالَتْ عَائِشَةُ: فكَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ. قَالَ أَبِي: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : فَقَسَمَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25262 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، خَالِدٌ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَاتَانِ لَمْ يَتْرُكْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دو نمازیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوشیدہ یا علانیہ کبھی ترک نہیں فرمائیں، عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 592، م: 835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 592، م: 835
حدیث نمبر: 25263 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ سورة المؤمنون آية 60 يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ؟ قَالَ: " لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يُخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت۔ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ۔ کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25263]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25264 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو قِلَابَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ، فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ، وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے بار بار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25265 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو حَتَّى أَسْمَعَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَلَا تُعَاقِبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنْ آذَيْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی تاکہ میں بھی سن لوں کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25265]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25266 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي لَيْلَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن ہوئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25267 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِي وَلَا تُوعِي فَيُوعَى عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا تو وہ کچھ لے کر آیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25267]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25268 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ" . قَالَ أَبِي: خَارِجَةُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے پھلوں کو اس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک کہ وہ خوب پک نہ جائیں اور آفتوں سے محفوط نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25268]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خارجة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خارجة
حدیث نمبر: 25269 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيٌّ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أُمَّ بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ؟ قَالَ:" إِنَّمَا هُوَ عُرُوقٌ" . أَوْ قَالَ:" عِرْقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25269]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم بكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم بكر
حدیث نمبر: 25270 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أُسَامَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25270]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل أسامة
الحكم: إسناده حسن من أجل أسامة
حدیث نمبر: 25271 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، شَيْبَةُ الْخُضْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ"، قَالَ:" وَسِهَامُ الْإِسْلَامِ: الصَّوْمُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَهُ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَاءَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ:" وَالرَّابِعَةُ: لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَبْدٍ ذَنْبًا إِلَّا سَتَرَهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ" . قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو، اس کی طرح نہیں کرے گا جس کا کوئی حصہ نہ ہو اور اسلام کا حصہ تین چیزیں ہیں، نماز، روزہ اور زکوٰۃ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کا سرپرست بن جائے، قیامت کے دن اسے کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا اور تیسرے یہ کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے اللہ اسے ان ہی میں شمار فرماتا ہے اور ایک چوتھی بات بھی ہے جس پر اگر میں قسم اٹھا لوں تو امید ہے کہ میں اس میں بھی حانث نہیں ہوں گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتا ہے، قیامت کے دن بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25271]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيبة الخضري
حدیث نمبر: 25272 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی بیمار ہوتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں یہ پڑھ کر دم کرتے " اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں کہ وہ ہر بیماری سے آپ کو شفاء دے، حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے اور ہر نظر بد والے کے شر سے۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25272]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يسمع من عائشة، م: 2185
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يسمع من عائشة، م: 2185
حدیث نمبر: 25273 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمُّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ، فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا اسْتَاكَ قَبْلَ الْوُضُوءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25273]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة أم محمد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 25274 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا، فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2068، م: 1603
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2068، م: 1603
حدیث نمبر: 25275 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ إِذَا طَمِثْتُ شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارًا، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعَارَهُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں جب " ایام " سے ہوتی تو اپنا تہبند اچھی طرح باندھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کے لحاف میں لیٹ جاتی تھی، لیکن وہ تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25275]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25276 مسند احمد
قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إنَّ الْغَلَّةَ بِالضَّمَانِ" . قال عبد الله: قال أبي: سَمِعْتُ مِنْ قُرَّانَ بْنِ تَمَّامٍ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِئَةٍ، وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ها هنا، وَفِيهَا مَاتَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25276]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف
حدیث نمبر: 25277 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَاصِمٌ ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور وہ برتن دونوں کے درمیان ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ، 250، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ، 250، م: 321
حدیث نمبر: 25278 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مِسْعَرٌ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا أَلْفِيتُهُ بِالسَّحَرِ الْآخِرِ إِلَّا نَائِمًا عِنْدِي" . تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1133، م: 742