يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ سورة المؤمنون آية 60 يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ الَّذِي يَسْرِقُ وَيَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَهُوَ يَخَافُ اللَّهَ؟ قَالَ: " لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يُصَلِّي وَيَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَهُوَ يُخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت۔ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ۔ کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25263]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة