هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو قِلَابَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ، فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ، وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے بار بار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25264]
الحكم: إسناده صحيح