بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 17 از 67
حدیث نمبر: 24779 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ آخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1146
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1146
حدیث نمبر: 24780 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، نَافِعٍ ، سَائِبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ: أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ، غَيْرُ الْوَزَغِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِقَتْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندی تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24780]
حکم دارالسلام
الأمر بقتل الوزغ صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة
الحكم: الأمر بقتل الوزغ صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة
حدیث نمبر: 24781 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ . وَعَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِهِ، وَهُوَ يُلَبِّي" . قَيْلَ لِسُلَيْمَانَ: أَفِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 24782 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24782]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: حديث صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 24783 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمُغِيرَةِ ، أُمِّ مُوسَى ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، قالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ:" مَا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ، إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24783]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أم موسي توبعت
الحكم: حديث صحيح، أم موسي توبعت
حدیث نمبر: 24784 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ" . يَعْنِي: وَلَدَ الزِّنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ناجائز بچہ بھی اگر اپنے ماں باپ جیسے کام کرنے لگے تو وہ تیسرا شر ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24784]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لأجل إبراهيم بن إسحاق، فإنه متروك
الحكم: إسناده ضعيف جدا لأجل إبراهيم بن إسحاق، فإنه متروك
حدیث نمبر: 24785 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمُغِيرَةِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ الْعِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بڑی آنکھوں والے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24785]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: العين، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: العين، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24786 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر باہر نکلتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24786]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24787 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَهْدَى إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24787]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24788 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ، فَلَهُ أَجْرَانِ، قَالَ:" وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ حَافِظٌ، مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 24789 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شُعْبَةُ ، أَشْعَثَ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ، فَصَلَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1134، م: 741
حدیث نمبر: 24790 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، هُرَيْمٌ ، ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیر کے دن فوت ہوئے تھے بدھ کی رات تدفین عمل میں آئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24790]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24791 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبَانُ ، بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قراءت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 498
الحكم: إسناده صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 24792 مسند احمد
أَسْوَدُ ، حَسَنٌ ، أَشْعَثَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " فَعَلْنَاهُ مَرَّةً فَاغْتَسَلْنَا" . فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو (تو غسل کرے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24792]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24793 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا، أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ، فَلَا، وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ، أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ، فَلَا، وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ، وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ، وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ: وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ، وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ، وُكِّلْتُ بِثَلاَثَةٍ: وُكِّلْتُ بِمَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ، وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ". قَالَ:" فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ، وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ: رَبِّ سَلِّمْ، رَبِّ سَلِّمْ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ، وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن کوئی دوست اپنے دوست کو یاد رکھے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! تین جگہوں پر تو بالکل نہیں، ایک تو میزان عمل کے پاس، جب تک کہ اس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری یا ہلکا نہ ہوجائے دوسرے اس وقت جب ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا کہ وہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرے اس وقت جب جہنم سے ایک گردن باہر نکلے گی، وہ غیظ و غضب سے ان پر الٹ پڑے گی اور تین مرتبہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتا رہا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مجھے ہر ظالم سرکش پر مسلط کیا گیا ہے، پھر وہ انہیں لپیٹے گی اور جہنم کی تاریکیوں میں پھینک دے گی۔ اور جہنم پر ایک پل ہوگا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کانٹے اور آنکڑے ہوں گے جو ہر اس شخص کو پکڑ لیں گے جسے اللہ چاہے گا، پھر کچھ لوگ اس پر پلک جھپکنے کی مقدار میں، کچھ بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ دوسرے سواروں کی طرح سے گذر جائیں گے اور فرشتے یہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار! بچانا، بچانا، اسی طرح کچھ لوگ صحیح سلامت بچ جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ جائیں گے اور کچھ چہروں کے بل جہنم میں گرپڑیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24793]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 24794 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، شَرِيكٌ ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ ، وَكِيعٌ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" . قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: قَالَ أَبِي: وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك، م: 298
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك، م: 298
حدیث نمبر: 24795 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ " أَوَّلُ مَا يَبْدَأُ بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ السِّوَاكَ، وَآخِرُهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24795]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
الحكم: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
حدیث نمبر: 24796 مسند احمد
أَسْوَدُ ، وَحَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، وَحَجَّاجٌ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَاسْأَلْهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا إِذَا سَافَرْنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا" . قَالَ أَسْوَدُ فِي حَدِيثِهِ: وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مَسَحْنَا عَلَى خِفَافِنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا موزوں پر مسح کرنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ہم سفر پر ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24796]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24797 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، خُصَيْفٍ ، رَجُلٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِي إِجْمَارًا شَدِيدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24797]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة، ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة، ولضعف شريك
حدیث نمبر: 24798 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْنَاهُ وَقَرَّبَ مَجْلِسَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَكُ تَشْكُو هَذَا الرَّجُلَ؟ قَالَ: " بَلَى، وَلَكِنْ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرِّ النَّاسِ، الَّذِينَ إِنَّمَا يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے قریب جگہ عطاء فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا: پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لئے چھوڑ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24798]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك ابن عبدالله ضعيف، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك ابن عبدالله ضعيف، ولكن توبع