أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْنَاهُ وَقَرَّبَ مَجْلِسَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَكُ تَشْكُو هَذَا الرَّجُلَ؟ قَالَ: " بَلَى، وَلَكِنْ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرِّ النَّاسِ، الَّذِينَ إِنَّمَا يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے قریب جگہ عطاء فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا: پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لئے چھوڑ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24798]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك ابن عبدالله ضعيف، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك ابن عبدالله ضعيف، ولكن توبع