بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 37 از 67
حدیث نمبر: 25179 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَوْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالرزاق، خ: 198
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالرزاق، خ: 198
حدیث نمبر: 25180 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، لِعَطَاءٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : فَمَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ؟ قَالَ: أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّهَا افْتَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَّتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہوجائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کردوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈالنے لگے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 485
الحكم: إسناده صحيح، م: 485
حدیث نمبر: 25181 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ" . فَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ، حَتَّى مَاتَتْ، وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کے وصال تک انہیں " ام عبداللہ " کہا جاتا رہا، حالانکہ ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
حدیث نمبر: 25182 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِمْتُ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ"، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَاكَ الْبِرُّ، كَذَاكَ الْبِرُّ" . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں، نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں دراصل وہ اپنی والدہ کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25183 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ:" مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَةَ، فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنْه قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت بری نہ تھی بعض اوقات اگر کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتا تو یہ چیز اسے مستقل ملامت کرتی رہتی حتیٰ کہ پتہ چلتا کہ اس نے اس سے توبہ کرلی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25184 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الْأَعْمَشِ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا انْصَرَفَ، قَالَ لِي: " قُومِي فَأَوْتِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے تھے، جب فارغ ہوجاتے تو مجھ سے فرما دیتے کہ کھڑے ہو کر وتر پڑھ لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 744
الحكم: إسناده صحيح، م: 744
حدیث نمبر: 25185 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِيَ الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً. فَقَالَ: إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ، أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلْ عَلَيْكُنَّ هَذَا" ، فَحَجَبُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آتا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسے عورتوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کی پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی آگئے، اس وقت وہ مخنث ایک عورت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ اسے یہ باتیں بھی معلوم ہوں گی، اس لئے آج کے بعد یہ تمہارے پاس کبھی نہ آئے، چنانچہ ازواج مطہرات اس سے پردہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2181
الحكم: إسناده صحيح، م: 2181
حدیث نمبر: 25186 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخِيهِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ، عَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرْفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " رَأَيْتِيهِ؟ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ترکی گھوڑے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25186]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر وهو العمري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر وهو العمري
حدیث نمبر: 25187 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءٌ أَوْ تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى الرِّيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مقام عالیہ کی کھجوریں صبح سویرے نہار منہ کھانے میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2048
الحكم: إسناده صحيح، م: 2048
حدیث نمبر: 25188 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدًا ، مَوْلًى ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا، قَالَتْ: قِفْ بِي. فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ، وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَآهَا، قَالَتْ: أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ، وَقالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک آزاد کردہ غلام " جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری کو آگے سے ہانکتا تھا " کہتا ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کسی گھنٹی کی آواز پر جاتی جو آگے سے آرہی ہوتی تو وہ اس سے فرماتیں کہ روکو اور اتنی دیر تک انتطار کرتی رہتیں جب تک کہ وہ آواز آنا بند نہ ہوجاتی اور اگر وہ اسے دیکھ لیتیں تو فرماتیں کہ مجھ جلدی سے لے چلو، تاکہ میں اس کی آواز نہ سن سکوں اور فرماتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے، جنات اس کے تابع ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25188]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة ، عبدالكريم غير منسوب فإن كان ابن مالك فهو ثقة وإن كان ابن أبى المخارق فهو ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة ، عبدالكريم غير منسوب فإن كان ابن مالك فهو ثقة وإن كان ابن أبى المخارق فهو ضعيف
حدیث نمبر: 25189 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، وَأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، تَقْرِضَانِهِ قَرْضًا، كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کافر پر دو سانپ مسلط کئے جاتے ہیں، ایک اس کے سرہانے کی جانب سے اور ایک پاؤں کی جانب سے اور وہ دونوں اسے ڈستے ہیں اور جب فارغ ہوتے ہیں تو دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25189]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم محمد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 25190 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَالْجَنَابَةِ، وَالْحِجَامَةِ، وَغَسْلِ الْمَيِّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار چیزوں کی بناء پر غسل کیا جائے گا، جمعہ کے دن اور جنابت کی وجہ سے اور سینگی لگوانے کی وجہ سے اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25190]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل مصعب بن شيبة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل مصعب بن شيبة
حدیث نمبر: 25191 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُزَوَّجُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ: لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَدِينِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت سے تین وجوہات کی بناء پر شادی کی جاتی ہے اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، اللہ تمہارا بھلا کرے تم دین والی کو ترجیح دینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25192 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25192]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 25193 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْخِيَارِ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا، فَلَا تَقْضِينَ فِيهِ شَيْئًا دُونَ أَبَوَيْكِ" فَقَالَتْ: مَا هُوَ؟ قَالَتْ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ....... إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ سورة الأحزاب آية 28 - 29 الْآيَةَ كُلَّهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَتْ: فَفَرِحَ لِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25194 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَتْ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہاے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2996
الحكم: إسناده صحيح، م: 2996
حدیث نمبر: 25195 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1969، م: 1156
حدیث نمبر: 25196 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، ابْنِ ثَوْبَانَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25196]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة ابن ثوبان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والدة ابن ثوبان
حدیث نمبر: 25197 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، جَابِرٍ ، عَرْفَجَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: " لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَأَخْشَى أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ، فَلَا يَسْتَطِيعُ دُخُولَهُ، فَيَرْجِعُ وَفِي نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25197]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 25198 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَة َقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسَاءَ بِالْكَلَامِ بِهَذِهِ الْآيَةِ: عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، قَالَتْ: وَمَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا الاّ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عورت سے بیعت لیتے اور وہ اقرار کرلیتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے فرما دیتے کہ جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866