رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدًا ، مَوْلًى ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا، قَالَتْ: قِفْ بِي. فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ، وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَآهَا، قَالَتْ: أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ، وَقالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک آزاد کردہ غلام " جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری کو آگے سے ہانکتا تھا " کہتا ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کسی گھنٹی کی آواز پر جاتی جو آگے سے آرہی ہوتی تو وہ اس سے فرماتیں کہ روکو اور اتنی دیر تک انتطار کرتی رہتیں جب تک کہ وہ آواز آنا بند نہ ہوجاتی اور اگر وہ اسے دیکھ لیتیں تو فرماتیں کہ مجھ جلدی سے لے چلو، تاکہ میں اس کی آواز نہ سن سکوں اور فرماتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے، جنات اس کے تابع ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25188]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة ، عبدالكريم غير منسوب فإن كان ابن مالك فهو ثقة وإن كان ابن أبى المخارق فهو ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة ، عبدالكريم غير منسوب فإن كان ابن مالك فهو ثقة وإن كان ابن أبى المخارق فهو ضعيف