عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، لِعَطَاءٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : فَمَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ؟ قَالَ: أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّهَا افْتَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَّتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہوجائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کردوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈالنے لگے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 485
الحكم: إسناده صحيح، م: 485