عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ" . فَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ، حَتَّى مَاتَتْ، وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کے وصال تک انہیں " ام عبداللہ " کہا جاتا رہا، حالانکہ ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام