بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 42 از 67
حدیث نمبر: 25279 مسند احمد
الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاخْتَنَثَهَا وَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس تشریف لے گئے، اس کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی پیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25279]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل محمد بن مسلم
الحكم: إسناده حسن لأجل محمد بن مسلم
حدیث نمبر: 25280 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ، ثُمَّ أُخِذَ عَنْهُ" . قَالَ الْقَاسِمُ: إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ لَعِنْدَنَا بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹا گیا تھا، بعد میں اسے ہٹا دیا گیا تھا، قاسم کہتے ہیں کہ اس کپڑے کا کچھ حصہ ان تک ہمارے پاس موجود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، الوليد بن مسلم مدلس ولكن صرح بالتحديث
الحكم: إسناده صحيح، الوليد بن مسلم مدلس ولكن صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 25281 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاغْتَسَلْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے ایک مرتبہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کیا تو بعد میں غسل کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25281]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد أعله البخاري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد أعله البخاري
حدیث نمبر: 25282 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عِكْرِمَةَ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالْقِدْرِ، فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ، فَيُصِيبُ مِنْهُ، ثُمَّ يُصَلِّي، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25283 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْنُبُ، فَيُوضَعُ لَهُ الْإِنَاءُ فِيهِ الْمَاءُ، فَيُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ، فَيَغْسِلُهَا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْمَاءِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، فَيُفْرِغُ بِهَا عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ يَغْرِفُ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ، فَيَصُبُّهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوجاتا تو ان کے لئے پانی کا برتن رکھا جاتا اور وہ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں داخل کر کے اس سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے اور شرمگاہ کو دھوتے، پھر تین مرتبہ کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر چہرہ اور دونوں بازو دھوتے، پھر تین چلو پانی لے کر سر پر بہاتے، پھر غسل کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25283]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25284 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، سُفْيَانُ ، رَبِيعَةَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25284]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2155، م: 1504
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 25285 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى رَجُلًا يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَكْشِفُهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يُمْضِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہارے تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5078، م: 2438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5078، م: 2438
حدیث نمبر: 25286 مسند احمد
حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَكَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ لَا يَجْلِسُ بَيْنَهُنَّ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے، ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے بلکہ آخر میں بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 737
الحكم: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 25287 مسند احمد
حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، ثُمَّ يُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ احرام سے پہلے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، م: 1189
حدیث نمبر: 25288 مسند احمد
حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 25289 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ. قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لِي يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَةَ: هِشَامٌ يُخْبِرُ بِهِ عَنِّي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 25290 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ، يُقَالُ لَهُ: طَلْحَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: تَنَاوَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ:" وَأَنَا صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 25291 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25291]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صالح الأسدي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صالح الأسدي
حدیث نمبر: 25292 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25293 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ " تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 232
الحكم: إسناده صحيح، خ: 232
حدیث نمبر: 25294 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ" وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ، وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش کے لوگ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے، مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4504، م: 1125
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4504، م: 1125
حدیث نمبر: 25295 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِي ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَجَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت نکلے تو کالے بالوں کی ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2081
الحكم: إسناده صحيح، م: 2081
حدیث نمبر: 25296 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز جو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25296]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25297 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَكَلَّمُوهُ، فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيها، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ، ألَا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں سے عاریۃً چیزیں مانگتی تھی اور پھر بعد میں مکر جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کا ٹنے کا حکم دے دیا، اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اوس سلسلے میں ان سے بات چیت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسامہ! کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود کے بارے بات کر رہے ہو؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے لوگ صرف اس لئے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو لوگ اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کر لتیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مخزومیہ عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3475، م: 1688
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3475، م: 1688
حدیث نمبر: 25298 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ يُهِلُّ لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ، فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطُوفَ بِهِمَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہےإِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ کے متعلق مروی ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ " مناۃ " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، اس لئے جو شخص حج یا عمرہ کرے، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25298]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح