بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 45 از 67
حدیث نمبر: 25339 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ. قَالَتْ: فَأَذِنَ لَهُ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ مَعِي فِي الْمِرْطِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، وَجَلَسَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ، فَقَضَى إِلَيْكَ حَاجَتَهُ عَلَى حَالِكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ، فَكَأَنَّكَ احْتَفَظْتَ؟، فَقَالَ:" إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي لَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، خَشِيتُ أَنْ لَا يَقْضِيَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ میں ان کے ساتھ ایک چادر میں بیٹھی ہوئی تھی، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ سے ابوبکروعمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عثمان بڑے حیاء دار آدمی ہیں، اگر میں انہیں اسی حال میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت (جس کے لئے وہ آئے تھے) پوری نہ کر پاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25339]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه خطأ والصحيح عن الزهري عن يحيى بن سعيد عن أبيه عن عائشة، م: 2402
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه خطأ والصحيح عن الزهري عن يحيى بن سعيد عن أبيه عن عائشة، م: 2402
حدیث نمبر: 25340 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي زَوْجًا وَلِي ضَرَّةً، وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي، أَقُولُ: أَعْطَانِي كَذَا، وَكَسَانِي كَذَا، وَهُوَ كَذِبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ! میری شادی ہوئی ہے لیکن میرے شوہر کی ایک دوسری بیوی یعنی میری سوکن بھی ہے، بعض اوقات میں اپنے آپ کو اپنے شوہر کی طرف سے اپنی سوکن کے سامنے بڑا برا ظاہر کرتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی اور فلاں کپڑا پہنایا تو کیا یہ جھوٹ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ ملنے والی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25340]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2129
الحكم: حديث صحيح، م: 2129
حدیث نمبر: 25341 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25341]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25342 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً، تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ، سُرِّيَ عَنْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ إِلَى رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باربار گھر میں داخل ہوتے اور باہر جاتے اور آگے پیچھے ہوتے، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں دردناک عذاب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
حدیث نمبر: 25343 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا انہیں آل داؤد کی خوش الحانی کا ایک حصہ دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25343]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري، راجع، 24097
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري، راجع، 24097
حدیث نمبر: 25344 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ: سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا قَرَأَ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، رُبَّمَا رَفَعَ، وَرُبَّمَا خَفَضَ" . قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً. قَالَ: قَالَ: فَهَلْ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ" . قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے پوچھا یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25344]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح
الحكم: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 25345 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَإِذَا فَجَرَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 25346 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا ضَعُفَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے اور پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے، جب وہ کمزور ہوگئے تو سات رکعتوں پر وتر بناتے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت حاضر ہوئے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعات نماز پڑھتے، ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے، پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے، پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25347 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ وَكَانَ جَارًا لَهُ أَخْبَرَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ، وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ، فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ، وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ" .
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25348 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 25349 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25350 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ، وَإِنَّهُ لَيُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ". قَالَتْ:" وَكَانَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اسی وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 25351 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ وَهِيَ دُونَ قِرَاءَتِهِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ، فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوی میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شمس و قمر کو کسی کی موت یا حیات سے گہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم یہ دیکھو تو نماز کی طرف فورا متوجہ ہوجایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1058، م: 901
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1058، م: 901
حدیث نمبر: 25352 مسند احمد
مَعْمَرٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قال مَعْمَرٌ ، وَأَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَ هَذَا وَزَادَ، قَالَ: فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَتَصَدَّقُوا وَصَلُّوا.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
حدیث نمبر: 25353 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْهَا:" أَنَّهُمَا شَرَعَا جَمِيعًا وَهُمَا جُنُبٌ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
حدیث نمبر: 25354 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہارے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2996
الحكم: إسناده صحيح، م: 2996
حدیث نمبر: 25355 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْمُعْتَكِفِ وَكَيْفَ سُنَّتُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25355]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2026، م: 1172
الحكم: حديث صحيح، خ: 2026، م: 1172
حدیث نمبر: 25356 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ، كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ" . قَالَ: يَرَوْنَ أَنَّهُ فِي الْإِثْمِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَظُنُّهُ قَوْلَ دَاوُدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25356]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 25357 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا أَرْسَلَتْ هِيَ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ مُرُّوا بِهِ عَلَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى عَلَيْهِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ:" أَلَا تَعْجَبُونَ مِنَ النَّاسِ حِينَ يُنْكِرُونَ هَذَا، فَوَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25357]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 973
الحكم: حديث صحيح، م: 973
حدیث نمبر: 25358 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ: يُحَدِّثُ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ . وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ الْمَوْتُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: هَذَا الْحَدِيثُ هُوَ هَكَذَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَفِي الِاعْتِكَافَِ وَحْدَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے حتی کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25358]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 2026، م: 1172
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 2026، م: 1172