عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا ضَعُفَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے اور پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے، جب وہ کمزور ہوگئے تو سات رکعتوں پر وتر بناتے اور بیٹھ کردو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت حاضر ہوئے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعات نماز پڑھتے، ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے، پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے، پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746